منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

پاکستان کا افغان سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے تربیتی مراکز کا خاتمہ

29 دسمبر, 2024 11:04

پاکستان کے جنگی طیاروں نے افغانستان کے مشرقی صوبہ پکتیکا میں کالعدم گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کیمپوں کا خاتمہ کر دیا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے کہ منگل کی رات پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغانستان کے اندر متعدد مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک تربیتی مرکز کو ختم کرنے کے ساتھ ہی متعدد طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستانی حکام نے بتایا کہ یہ حملے پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ پکتیکا کے ایک پہاڑی علاقے میں کیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ حملے ٹی ٹی پی کی تربیتی کیمپوں پر کیے گئے تھے، نہ کہ افغانستان یا آئی اے جی فورسز پر جیسا کہ آئی اے جی اور دشمن میڈیا نے غلط طور پر پیش کیا۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے آپریٹ کرتی ہے، جبکہ آئی اے جی نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو قابو کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔

 یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا مستقل ذریعہ تھے جو پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہے تھے۔  4 بڑے دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں دہشت گردوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ کہ اس حملے میں "ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 46 ہے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس میں بھی زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق جن میں خودکش بمبار، اہم کمانڈرز اور اسلحہ و گولہ بارود کے بڑے ذخائر شامل تھے۔ اہم کمانڈرز جنہیں نشانہ بنایا گیا ان میں شیر زمان عرف مخلص یار، ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے ٹرینرز)، اختر محمد عرف خلیل، اور شوئب اقبال (ٹی ٹی پی عمر میڈیا کے سربراہ) شامل ہیں، جن کا میڈیا دفتر بھی نشانہ بنایا گیا۔

 افغانستان، آئی اے جی کے تحت، اپنی مشکلات اور مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور ابھی تک مکمل طور پر فعال ریاست نہیں بن سکا۔  تاہم، آئی اے جی اور جی ڈی آئی کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق بین الاقوامی قانون اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ جب خطرات غیر ملکی علاقوں سے آئیں تو ریاست کو خود دفاع کا حق حاصل ہے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔