منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

اسماعیل ہنیہ شہید کو قتل کرنے کی مکمل کہانی منظر عام پر آگئی

29 دسمبر, 2024 17:12

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے شہید سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے متعلق اسرائیلی میڈیا نے سنسنی خیز رپورٹ شائع کرکے نئی بحث چھیڑ دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 جولائی 2023 کو ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی تقریب حلف برداری کے بعد تہران کے انتہائی حساس علاقے میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤس میں مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کردیا گیا تھا، جس کا الزام میزبان ملک اور حماس نے اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے باضابطہ طور پر اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کی ذمہ داری قبول بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا پہلی بار اسماعیل ہنیہ کو ایران میں شہید کرنے کا اعتراف

اب رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور انکی مزاحمت کو کچلا جاسکے قابض صہیونی افواج نے جان بوجھ کر حماس سربراہ کو صدر کی حلف برداری تک آپریشن نہ کرنے کی ٹھانی اور انہیں تقریب کے بعد نشانہ بنایا گیا۔

Bomb was planted in Ismail Haniyeh's room in Tehran to assassinate him, Israeli broadcaster claims

اسرائیلی میڈیا کے بقول اسماعیل ہنیہ کو قتل کرنے کا فیصلہ حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے کے بعد کیا گیا۔ اسماعیل ہنیہ قطر میں مقیم تھے لیکن انھیں وہاں قتل کرنے سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

مزید پڑھیں: حماس نے ایرانی حملوں کو اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ قرار دیدیا

اس لیے اسماعیل ہنیہ کو کہاں مارا جائے اس کے لیے ترکیہ، روس اور ایران کے آپشنز تھے جہاں حماس رہنما اکثر آتے جاتے رہتے تھے تاہم ترک صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے شدید ردعمل کا خدشہ تھا اس لیے اسرائیل نے دشمنی نکالنے کیلئے ایران کو سب سے موزوں آپشن کے طور پر منتخب کیا۔

ابتدائی طور پر اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کو ایران میں اُس وقت نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا جب وہ 19 مئی کو ہیلی کاپٹر کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے تہران آئے تھے۔

مزید پڑھیں: اسماعیل ہنیہ کو کیسے نشانہ بنایا گیا، بیٹے کے اہم انکشافات

پاسداران انقلاب کی ماہر حفاظتی ٹیم بطور مہمان خصوصی اسماعیل ہنیہ کو اپنے سخت حصار میں رکھتی ہے جس کے باعث انھیں قتل کرنے کیلئے گہری سطح کی دراندازی کی ضرورت تھی۔
اسرائیل نے اب کی بار آپریشن کا مزید 2 ماہ سے زیادہ انتظار کیا جب اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران پہنچے۔

تقریب حلف برداری سے کچھ دیر پہلے ہی اسرائیلی ایجنٹوں نے اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں اس کے بستر کے قریب ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ نصب کردیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا چینل 12 کے مطابق گو یہ دھماکا خیز آلہ منصوبہ بندی سے تھوڑا بڑا تھا لیکن پھر بھی اتنا بڑا نہیں تھا کہ ملحقہ کمروں کو نقصان پہنچا سکے تاہم بم میں اتنی طاقت تھی کہ اسماعیل ہنیہ موقع پر ہی شہید ہوجائیں۔

مزید پڑھیں: اسماعیل ہنیہ کی شہادت؛ سعودی عرب بھی ایران کی حمایت میں آگیا

تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد اسماعیل ہنیہ اپنے کمرے میں پہنچ گئے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک کمرے کا اے سی خراب ہوگیا اور وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے جو اتنا دور تھا کہ اس بم سے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

یہ وہ وقت جب اسرائیلی منصوبہ سازوں کو لگا کہ قتل کی یہ سازش ناکام ہوگئی لیکن کمرے کا اے سی ٹھیک کردیا گیا اور اسماعیل ہنیہ واپس لوٹ آئے تھے اور تقریباً 1:30 بجے اس آئی ای ڈی بم کو دھماکا سے اُڑا دیا گیا جس سے کمرے کی بیرونی دیوار میں ایک سوراخ پڑ گیا اور وہ جاں بحق ہوگئے۔

سیکنڈوں کے اندر، قریب ہی موجود پاسداران انقلاب کی طبی امدادی ٹیم اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں پہنچی لیکن انھیں وہاں حماس کے رہنما مردہ حالت میں ملے۔اسماعیل ہنیہ کے نائب خلیل الحیا بھی کمرے میں پہنچ گئے اور اپنے لیڈر کی خون آلود لاش کو دیکھ کر روتے ہوئے گھٹنوں کے بل گر گئے۔

مزید پڑھیں: اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس کے نئے سربراہ مقرر

یاد رہے کہ قتل کے چند گھنٹے بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسی وقت فون پر ہی حکم دیا کہ فوری طور پر اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی جگہ یحییٰ السنوار کو حماس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا تاہم مختصر وقت کے بعد ہی وہ 16 اکتوبر کو غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگئے تھے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔