اتوار، 22-مارچ،2026
اتوار 1447/10/03هـ (22-03-2026م)

انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری سے متعلق اہم انکشافات سامنے آگئے

26 اگست, 2025 13:53

معروف مذہبی اسکالر اور یوٹیوبر انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں عوام کی جانب سے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انجینئر محمد علی مرزا کو گزشتہ شب 9 بجے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکاروں نے ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن اجمل جامی نے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں اس گرفتاری کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق بعض صحافیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکار محمد علی مرزا کی اکیڈمی میں پہنچے اور انہیں یہ کہہ کر ساتھ لے گئے کہ کچھ افسران آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد انہیں ڈپٹی کمشنر آفس جہلم لے جایا گیا۔ وہاں ان پر "تھری ایم پی او” (Maintenance of Public Order – 3 MPO) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

اجمل جامی کے مطابق یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ حالیہ ویڈیوز میں محمد علی مرزا نے ایک مذہبی گفتگو کے دوران حضرت محمد ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے مسیحی مذہبی کتاب کے حوالے سے کچھ باتیں کی تھیں، جن پر مذہبی حلقوں، بالخصوص تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے رہنما محمد آصف اشرف جلالی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ جلالی کی جانب سے ایک فتویٰ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں محمد علی مرزا کے کلمات کو گستاخی کے زمرے میں قرار دیا گیا۔

اجمل جامی کا کہنا ہے کہ ایک مسیحی اسکالر ٹامی ولیم نے بھی محمد علی مرزا کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی مذہبی متون میں حضرت محمد ﷺ کے متعلق ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جیسا کہ انجینئر محمد علی مرزا نے بیان کیا۔

اجمل جامی نے اپنی ویڈیو میں یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسے حساس بیانات پاکستان میں نقصِ امن کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی جانب سے تھری ایم پی او کے تحت کارروائی کو درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مختلف مذہبی شخصیات کی جانب سے بھی محمد علی مرزا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔