پیر، 11-مئی،2026
پیر 1447/11/24هـ (11-05-2026م)

سسر کی جائیداد رضا مندی کے بغیر حق مہر میں نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ

11 مئی, 2026 14:58

سپریم کورٹ نے حق مہر کے تنازع پر ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے شخص، بشمول سسر کی جائیداد کو مالک کی مرضی کے بغیر حق مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں سسر کی جائیداد شامل کرنے سے متعلق ایک اہم کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کی واضح رضا مندی کے بغیر حق مہر کا حصہ بنانا قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ کے حق مہر میں شامل پشاور رنگ روڈ پر واقع ایک کنال کا پلاٹ دراصل اس کے سسر شیر عالم خان کی ملکیت تھا اور ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے اپنی بہو کو دینے کی کوئی رضا مندی نہیں دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں، فیصلہ جاری

عدالت نے ماتحت عدالتوں کی اس غلطی کی نشاندہی کی کہ انہوں نے شواہد کو درست طریقے سے نہیں پڑھا اور ملکیت کے اس اہم پہلو کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے پشاور ہائی کورٹ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تھی۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق، مدعیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ نکاح کے وقت ایک کنال کا پلاٹ، پانچ لاکھ روپے اور سونے کے زیورات حق مہر میں طے پائے تھے۔

تاہم سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے 22 مارچ 2024 کے فیصلے کے خلاف اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے پلاٹ کی حد تک فیملی کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابقہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ہیں۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ نکاح کے بعد تیار کردہ کابین نامہ قانونی طور پر ثابت نہیں ہو سکا اور اس کے گواہان بھی جرح کے دوران اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کی دیگر اشیاء بشمول پانچ لاکھ روپے اور سونے کے زیورات کی حد تک سابقہ فیصلے برقرار رہیں گے، لیکن پلاٹ کی حد تک بہو کا دعویٰ خارج کر دیا گیا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔