ہفتہ، 1-اگست،2026
ہفتہ 1448/02/18هـ (01-08-2026م)

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

01 اگست, 2026 14:10

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرحوم ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

 عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ کسی ریٹائرڈ ملازم کے انتقال کے بعد پنشن کی قانونی حقدار بیوہ یا قانون کے مطابق نامزد شخص ہوسکتا ہے۔ صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر مرحوم کی بہن یا بھائی پنشن کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنشن کی ادائیگی وراثتی جائیداد کی طرح تقسیم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے متعلقہ قوانین اور ادارے کے مقررہ قواعد کو دیکھا جائے گا۔ پنشن کا حق اسی شخص کو حاصل ہوگا جسے قانون یا متعلقہ پنشن رولز کے تحت حقدار قرار دیا گیا ہو۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ مرحوم ملازم کی بیوہ پنشن کی قانونی حقدار ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس محض یہ بات کہ بہن یا بھائی بھی متوفی کے قانونی وارث ہیں، انہیں پنشن کا حق نہیں دیتی۔ پنشن کے معاملے میں قانونی وارث اور پنشن کے حقدار کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک مرحوم ریٹائرڈ پیسکو ملازم کے معاملے میں سامنے آیا۔ کیس میں متوفی ملازم کے بہن بھائیوں کی جانب سے وراثت نامہ جاری کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے ان کا مؤقف تسلیم نہیں کیا اور اپیل مسترد کر دی۔

چار صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے تحریر کیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا۔ اس طرح مرحوم ملازم کے بہن بھائیوں کی جانب سے پنشن اور مراعات کے حصول کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

عدالت نے اس معاملے میں پنشن کے قانونی اصول کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پنشن کی ادائیگی متعلقہ ادارے کے قوانین اور مقررہ قواعد کے مطابق ہی کی جائے گی۔ ہر قانونی وارث لازمی طور پر پنشن کا حقدار نہیں ہوتا۔ پنشن کے لیے الگ سے طے شدہ قانونی شرائط موجود ہوتی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔