جی میل صارفین کیلئے انتہائی بُری خبر سامنے آگئی

Very bad news for Gmail users has emerged.
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ایک بڑے ڈیٹا لیک کا انکشاف کیا ہے جس میں کروڑوں جی میل صارفین کی لاگ اِن تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 4 کروڑ 80 لاکھ صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز ایک غیر محفوظ ڈیٹا بیس میں پائے گئے ہیں، جو کسی بھی قسم کی سیکیورٹی یا انکرپشن کے بغیر آن لائن موجود تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ڈیٹا براہِ راست جی میل یا کسی اور سروس پر ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف پرانے ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے اکٹھا کیا گیا ہے۔ یہ میل ویئر صارفین کے موبائل یا کمپیوٹر میں خفیہ طور پر داخل ہو کر لاگ اِن معلومات چرا لیتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس ڈیٹا بیس میں صرف جی میل ہی نہیں بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، یاہو، آؤٹ لک اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے اکاؤنٹس کی معلومات بھی شامل تھیں۔ یہاں تک کہ کچھ سرکاری اور بینکنگ اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی موجود پائی گئیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی قیمتی ہوتا ہے کیونکہ اسے کریڈنشل اسٹیفنگ جیسے حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف ویب سائٹس پر آزمایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے صارفین کے اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا بیس ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک آن لائن رہا، جسے بعد میں سیکیورٹی ماہرین کی نشاندہی پر ہٹا دیا گیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ ڈیٹا جمع ہوا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میل ویئر اب بھی متحرک ہو سکتا ہے اور مزید معلومات لیک ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
گوگل نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ اس لیک سے آگاہ ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے خودکار سسٹمز مشتبہ لاگ اِن سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے متاثرہ اکاؤنٹس کو لاک کر دیتے ہیں اور صارفین کو پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں، ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن آن کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا پاس کیز کا استعمال کریں تاکہ آن لائن معلومات محفوظ رہ سکیں۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










