ایران پر بمباری کی خفیہ کہانی : ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وہ فون کال، جس نے سب بدل دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے خفیہ رابطوں نے ایران پر ہونے والے تباہ کن حملے کی بنیاد رکھی۔
رپورٹس کے مطابق 23 فروری کو نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ فون کال نے ایران پر جنگ کی چنگاری بھڑکائی۔
اس کال میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کو انتہائی حساس انٹیلیجنس معلومات فراہم کیں، جن کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اعلیٰ مشیر 28 فروری کی صبح تہران میں ایک مخصوص جگہ جمع ہونے والے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے افغان طالبان کو دیوار سے لگا دیا : سابق افغان نائب صدر
نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے اور ایک ہی فضائی حملے سے پوری ایرانی قیادت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اس معلومات کی تصدیق کے لیے مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) سے جانچ پڑتال کروائی، جس نے تصدیق کی کہ ایرانی قیادت واقعی ایک ہی جگہ موجود ہوگی۔
اس منصوبے کو خفیہ رکھنے کے لیے ٹرمپ نے اپنے سرکاری خطاب میں ایران کا ذکر کرنے سے گریز کیا تاکہ تہران کو شک نہ ہو۔ بالآخر 27 فروری کو ٹرمپ نے حتمی فیصلے پر دستخط کیے اور 11 گھنٹے بعد تہران پر بمباری کر دی گئی، جس میں سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔
اگرچہ ٹرمپ نے عوامی سطح پر یہ تاثر دیا کہ یہ فیصلہ ان کا اپنا تھا، لیکن اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ نیتن یاہو کی فراہم کردہ خفیہ معلومات نے اس حملے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












