دو ہفتوں کی جنگ کے بعد امریکا دنیا سے روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہا ہے؛ ایرانی وزیرخارجہ

We have no limits or boundaries when it comes to defending ourselves,” says the Iranian Foreign Minister
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی روسی تیل کے معاملے پر پالیسی مکمل طور پر متضاد اور دوغلی ثابت ہوئی ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کئی مہینوں تک بھارت کو روس سے تیل کی درآمدات ختم کرنے کے لیے دھمکیاں دیتا رہا۔ تاہم ایران کے ساتھ صرف دو ہفتوں کی جنگ کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنا مؤقف بدل لیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا دنیا کے مختلف ممالک سے درخواستیں کر رہا ہے کہ وہ روسی خام تیل خریدیں تاکہ عالمی توانائی منڈی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی تبدیلی نے امریکی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ واشنگٹن کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی مستقل مزاجی سے محروم ہے۔
عباس عراقچی نے یورپی ممالک کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو امید تھی کہ ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کے بدلے اسے امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہو جائے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












