پاکستان کا فضائی حملہ، طالبان کا انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر تباہ، ملا ہیبت اللہ کے کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات

بعض تجزیہ کار اس کارروائی کو پاکستان کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اختلافات کے باوجود براہ راست عسکری قیات کیخلاف کارروائی سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے حالیہ دنوں میں اپنے خلاف ہونے والے حملوں اور سرحد پار سے بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں طالبان کے اہم عسکری اور خفیہ مراکز کو نشانہ بنایا۔
بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے دوران طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق زیادہ قابل اعتماد اطلاعات یہ ہیں کہ کارروائی کا اصل ہدف طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے مراکز تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ قندھار میں جی ڈی آئی کے ہیڈکوارٹر اور بدنام زمانہ تین سو تیرہ انٹیلی جنس بدری بریگیڈ کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کارروائی میں دیگر عسکری تنصیبات بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں دو سو پانچ کور کے ملٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور تربیتی مراکز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان سیاسی قیادت نے پاکستان سے کشیدگی کا ذمہ دار طالبان کو قرار دے دیا
اطلاعات کے مطابق قندھار ایئر فیلڈ کے قریب واقع ایندھن کے ذخائر اور لاجسٹک سپلائی لائنز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسلحہ کے گوداموں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے طالبان کے عسکری اور خفیہ ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ کارروائی اس پس منظر میں کی ہے، جب اسلام آباد میں حمزہ کیمپ پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش اور خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد پاکستان نے سرحد پار موجود عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
بعض کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی تحریک طالبان پاکستان کے بعض رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے اور ان کی نقل و حرکت میں مدد دے رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور دیگر سرگرمیاں بھی انہی مراکز سے چلائی جاتی رہی ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ قندھار میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا، وہاں زیر زمین سرنگوں کا ایک بڑا نظام موجود تھا اور وہ مقام انٹیلی جنس سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، جہاں سے مبینہ طور پر مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تو اس کے افغانستان کی اندرونی سیاست پر بھی بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں طالبان کی قیادت کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت کی کشمکش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے اس ماحول میں چین اور ترکی جیسے ممالک دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ ایسی بڑی عسکری کارروائیاں خطے کی سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








