کابل میں منشیات سینٹر نہیں اسلحہ خانہ اڑایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مذاکرات کو دہشتگردوں کی حوالگی سے مشروط کردیا

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کابل میں حالیہ حملے سے متعلق افغان طالبان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے منشیات بحالی مرکز نہیں بلکہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان کی جانب سے کابل میں منشیات بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی افواج نے کسی شہری یا طبی مرکز کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ دہشت گردوں کے زیر استعمال اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخیرے کو ہدف بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا، وہ دراصل ڈرون طیاروں، میزائلوں اور بھاری اسلحہ کا ذخیرہ تھا، جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بعد وہاں موجود گولہ بارود پھٹنے سے شدید دھماکے ہوئے اور آگ کے شعلے کافی دیر تک بلند ہوتے رہے جنہیں شہر کے رہائشیوں نے بھی دیکھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان کی یہ پرانی روش ہے کہ وہ منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے بیشتر خودکش حملوں میں ملوث افراد نشے کے زیر اثر یا منشیات کے عادی تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں اب تک اکیاسی کارروائیاں کی ہیں، جو خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان میں عام شہریوں کو نہیں بلکہ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص آپریشن کے دوران چوالیس چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور مجموعی طور پر سات سو سات دہشت گرد ہلاک کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے، فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان کی تریپن چوکیوں پر حملے کئے، جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون بھارت کی جانب سے فراہم کئے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشت گردی پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور ملک گزشتہ کئی دہائیوں سے اس جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد کی ترلائی مسجد پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں ملوث دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور افغان عوام خود بھی موجودہ صورتحال کا شکار ہیں۔
انہوں کا کہنا تھا کہ افغان طالبان دہشت گردوں کو سرکاری عمارتوں میں پناہ دے رہے ہیں اور افغانستان عالمی دہشت گردوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کریں اور اپنے ملک میں موجود دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کریں، انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیئے پاکستان اہم ہے یا پھر ٹی ٹی پی۔ یہ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کی جنگ ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












