امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کی ایٹمی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی

اسرائیلی وزیراعظم گزشتہ تین دہائیوں سے جس ایٹمی خوف کا پرچار کر رہے ہیں، اب وہ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ایران اپنی دہائیوں پرانی امن پالیسی تبدیل کرنے والا ہے؟
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو گزشتہ تیس سال سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خوف میں جی رہے ہیں اور مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے بالکل قریب ہے۔
تاہم زمینی حقائق کے مطابق ایران نے اب تک ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کئے کیونکہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ایران کی اس پالیسی کی بنیاد شہید سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا وہ تاریخی فتویٰ تھا، جس میں انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو اسلامی اصولوں کے خلاف اور حرام قرار دے دیا تھا۔
سید علی خامنہ ای، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا، ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن اب صورتحال یکسر بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا ایران امریکہ مذاکرات پر عدم اعتماد، جنگ کے خاتمے کا امکان مسترد کردیا
اسرائیل اور امریکہ کی مسلسل جارحیت اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے تہران کے اندر اس سوچ کو تقویت دی ہے کہ شاید اب دفاع کے لیے جوہری صلاحیت ناگزیر ہو چکی ہے۔
ایران کی موجودہ فوجی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ حالیہ برسوں میں ہونے والے ایرانی میزائلوں اور جدید ڈرونز کے حملوں کو سہنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جو ممالک ایران کے روایتی ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے، وہ ایران کے بطور ایک ایٹمی طاقت ابھرنے کے بعد اس سے کیسے لڑیں گے؟
اگر ایران کے نئے سپریم لیڈر نے بدلے ہوئے حالات اور ملکی بقا کے پیشِ نظر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت دے دی، تو یہ خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
اسرائیل جو تیس سال سے پروپیگنڈے کی بنیاد پر ایران کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، اب ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑا ہے جہاں اس کی اپنی جارحانہ پالیسیاں ایران کو ایٹمی دھماکے کی جانب دھکیل رہی ہیں۔
مودی کی طرح نیتن یاہو کی جنونی پالیسیاں بھی خود ان کے ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ نیوکلیئر پاور ایران سے ٹکرانا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












