امریکہ اور ایران مذاکرات کی ناکامی پر آسٹریلیا کا مایوسی کا اظہار، فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی اپیل

آسٹریلوی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور فوری طور پر مذاکراتی عمل کی طرف واپس لوٹیں۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جو آسٹریلوی میڈیا پر نمایاں طور پر نشر کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا اور فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
پینی وونگ کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ موجودہ جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی ایران اور امریکہ سے سیز فائر برقرار رکھنے کی اپیل
آسٹریلوی وزیر خارجہ نے عالمی برادری کی تشویش کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس دیرینہ تنازع کا ایک تیز رفتار اور پرامن حل دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس تنازع میں کسی بھی قسم کا اضافہ یا شدت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں چکانی پڑے گی بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور کشیدگی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں، بلکہ اس سے صرف انسانی مصائب میں اضافہ ہوتا ہے۔
پینی وونگ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے، جس کے ذریعے خطے میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں، جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہوں۔
آسٹریلیا نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران جلد ہی کسی مشترکہ نکتے پر متفق ہو کر خطے کو بڑی جنگ کے خطرے سے نکال لیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












