جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

پاک بحریہ کی طاقت میں اضافہ، پہلی ہنگور کلاس آبدوز بیڑے میں شامل

30 اپریل, 2026 14:04

چین میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران پہلی ہنگور کلاس آبدوز باقاعدہ طور پر پاک بحریہ کے بیڑے کا حصہ بن گئی ہے، جس کی صدارت صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کی۔

پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک نیا باب اس وقت روشن ہوا، جب چین کے شہر سانیا میں پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ کی تقریب منعقد ہوئی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ امیر البحر ایڈمرل نوید اشرف بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

صدر زرداری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہنگور کلاس آبدوز کی شمولیت کو پاک بحریہ کی جدید کاری میں ایک عظیم تاریخی سنگ میل قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری کے دفاع، سمندری مفادات کے تحفظ اور اپنی معاشی شہ رگ کی سلامتی کو یقینی بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک بحریہ کا جدید ترین اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ

صدر کا کہنا تھا کہ یہ آبدوز پاکستان کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم خطے میں ایک مضبوط اور متوازن دفاعی توازن برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے خطاب میں عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمندری تجارتی راستوں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحری قوت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں، سینسرز اور ہوا سے آزادانہ پروپلشن سسٹم سے لیس ہیں، جو بحیرہ عرب اور بحر ہند میں استحکام برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

نیول چیف نے ہنگور کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے یاد دلایا کہ 1971 میں پہلی ہنگور آبدوز نے دشمن کا جنگی جہاز ڈبو کر عالمی تاریخ رقم کی تھی، اور اب یہ نئی آبدوز اسی عظیم روایت کو آگے بڑھائے گی۔

تقریب میں پاک بحریہ اور چینی بحریہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے بھی اس کامیابی پر پوری قوم اور پاک بحریہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔