افغان طالبان کی انگور اڈہ میں سول آبادی پر گولہ باری، خواتین اور بچوں سمیت چھ افراد زخمی

انگور اڈہ میں ہونے والی افغان طالبان کی بزدلانہ گولہ باری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
پاک افغان سرحدی علاقے جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی جانب سے اشتعال انگیزی اور سول آبادی پر حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ روز انگور اڈہ کے مقام پر دیکھنے میں آئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اپریل کو افغان طالبان نے سرحدی حدود کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگور اڈہ سے ملحقہ پاکستانی سول آبادی پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔
ایک مارٹر گولہ مقامی شہری نور علی کے گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور گھر کی چھت گرنے و ملبے تلے دبنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد لہو لہان ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد چوکیاں اور تنصیبات تباہ
متاثرہ شہری نور علی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھے کہ اچانک سرحد پار سے آنے والی موت نے ان کے ہنستے بستے گھر کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے فوری بعد مقامی افراد اور سیکیورٹی فورسز نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق نے تصدیق کی ہے کہ زخمیوں میں تین معصوم بچے اور دو خواتین شامل ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اہل علاقہ نے اس بزدلانہ کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حدود سے ہونے والی مسلسل گولہ باری سے مقامی شہری، خصوصاً بچے نشانہ بن رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سول آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرحد پار موجود فتنہ پرور عناصر کا انسانیت اور بین الاقوامی سرحدی قوانین سے کوئی تعلق نہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے اس حملے کے بعد سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










