جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

صدر پیوٹن کا دورہ چین کسی بڑے فوجی ایکشن کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، سابق امریکی انٹیلی جنس افسر

20 مئی, 2026 10:32

امریکہ کے سابق انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کا حالیہ دورہ چین بیجنگ کو اپنے اگلے بڑے اسٹریٹجک منصوبوں سے آگاہ کرنے کے لیے ہے، جو کہ سال 2022 کے دورے جیسا ہی اہم ہے۔

امریکہ کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق سینیئر افسر رے میک گورن نے انٹرویو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے موجودہ دورہ چین کے حوالے سے کہا کہ یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد چینی صدر شی جن پنگ کو روس کے مستقبل کے بڑے تزویراتی اور عسکری منصوبوں کے بارے میں مکمل طور پر اعتماد میں لینا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ یہ بالکل اسی طرح کی صورتحال ہے، جیسے سال 2022 میں صدر پیوٹن نے یوکرین میں اپنی خصوصی فوجی مہم کے آغاز سے محض چند ہفتے قبل چین کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا تھا اور چینی قیادت کو اپنے ارادوں سے آگاہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران اگر کہیں تو روس ثالثی اور مدد کیلئے تیار ہے، روسی نائب وزیر خارجہ

رے میک گورن نے رِک سانچیز کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ تاریخ میں یہ مثال پہلے سے موجود ہے کہ پیوٹن نے ہمیشہ چین کے ساتھ اپنے ملک کے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

چین نے بھی ہمیشہ ماسکو کے علاقائی تحفظات اور اس کی بنیادی سیکیورٹی کے خدشات کو تسلیم کیا ہے اور عالمی فورمز پر روس کے مؤقف کی توثیق کی ہے۔

سابق امریکی افسر نے ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ صدر پیوٹن کے اس دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے ایک انتہائی اہم مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا، جو کہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ دونوں طاقتیں ایک پیج پر ہیں۔

اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے موقع پر ایسا کوئی بھی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا تھا، جو واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین دوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔