برطانیہ میں نئے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اعلان، شہریوں کی رازداری اور مالیات پر حکومتی کنٹرول کا خطرہ

برطانیہ میں تقریباً دو دہائیاں قبل شدید عوامی ردعمل کے باعث مسترد کی جانے والی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی شناختی کارڈ اسکیم اب ایک نئے اور کہیں زیادہ وسیع ڈیجیٹل شناختی نظام کی شکل میں دوبارہ سامنے آ گئی ہے۔
سال 2006 میں ٹونی بلیئر کی حکومت نے قومی شناختی کارڈ منصوبہ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت اسے عوامی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
لاکھوں شہریوں نے اس کے خلاف پٹیشنز دائر کیں اور ناقدین نے اسے شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا، جس کے بعد یہ منصوبہ عملی طور پر ناکام ہو گیا تھا۔ اب برطانیہ میں اس نئے ڈیجیٹل آئی ڈی ماڈل کو دوبارہ متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس نظام کے تحت ایک ایسا مرکزی ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرانے کی تجویز زیر بحث ہے، جو شہریوں کے بینکنگ ریکارڈ، قومی صحت کے نظام، ٹیکس تفصیلات اور سرکاری خدمات کو آپس میں جوڑ سکے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کا نیا اور انتہائی سستا اینٹی ڈرون نظام تعینات
حکومتی حلقے اس منصوبے کو اختیاری قرار دے رہے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بینک، آجر، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر اس نظام کو لازمی بنانا شروع کر دیں تو عملی طور پر ہر شہری کو اس میں شامل ہونا پڑے گا۔ اسی وجہ سے برطانیہ میں رازداری، شہری آزادیوں اور ریاستی نگرانی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر ڈیجیٹل شناختی نظام مکمل طور پر قومی صحت، ٹیکس اور مالیاتی ڈھانچے سے منسلک ہو گیا تو ہر شہری کی طبی معلومات، مالی ریکارڈ، سفری تفصیلات، سرکاری فوائد اور بینکنگ سرگرمیاں ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل میں جمع ہو سکتی ہیں۔ پرائیویسی کے حامی حلقوں کے مطابق اس سے ریاستی نگرانی کے دائرہ کار میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحث کا ایک اور اہم پہلو سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی یعنی ڈیجیٹل پاؤنڈ ہے، جس پر بینک آف انگلینڈ اور حکومتی ادارے مختلف سطحوں پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں ڈیجیٹل شناخت اور مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کو آپس میں جوڑ دیا گیا تو ریاست کو مالی لین دین کی نگرانی اور کنٹرول کے غیر معمولی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔
کچھ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ قابل پروگرام ڈیجیٹل کرنسی اور مرکزی شناختی نظام کے امتزاج سے مستقبل میں مالیاتی رسائی مخصوص شرائط سے مشروط ہو سکتی ہے، جبکہ حامی حلقے کہتے ہیں کہ ایسے نظام سے دھوکہ دہی کم ہو گی، سرکاری خدمات تیز ہوں گی اور ڈیجیٹل معیشت زیادہ مؤثر انداز میں چل سکے گی۔
برطانیہ میں ڈیجیٹل شناختی نظام پر جاری بحث اب صرف ٹیکنالوجی یا سہولت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ شہری آزادی، رازداری، ریاستی اختیارات اور مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے ڈھانچے سے جڑا ایک بڑا سیاسی اور سماجی سوال بنتی جا رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









