پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا، نئی رپورٹ میں اہم انکشافات

Major Solar Panels Update
پاکستان میں مہنگی بجلی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث سولر توانائی کی طرف عوام کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی رجحان کے نتیجے میں پاکستان نے ایک اہم عالمی اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
نئی سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان 2024 کے دوران دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا، جہاں ایک سال میں 17 گیگاواٹ کے سولر پاور سسٹمز درآمد کیے گئے۔ یہ مقدار 2023 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے، جو ملک میں سولر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتی ہے۔
وزارتِ خزانہ اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے تیار کی گئی پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان (CPP) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگی بجلی، بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بجلی کی پیداوار کے مہنگے معاہدے قومی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بجلی خریدنے کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، بجلی کے نرخ حقیقت پسندانہ بنائے جائیں اور پرانے، کم مؤثر فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار بند یا متبادل ایندھن پر منتقل کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے کئی بڑے اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت 2030 تک ملک کی توانائی کا 60 فیصد حصہ صاف توانائی سے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح 2035 تک بجلی کی مجموعی پیداوار کا نصف حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے اور 2040 تک اس تناسب کو 95 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2035 تک 14 ہزار میگاواٹ فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار بند یا متبادل ذرائع پر منتقل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کو موجودہ 19 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد تک لانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت ملک بھر میں سو فیصد بجلی کی فراہمی، تمام سرکاری سیکنڈری اسکولوں کی چھتوں پر سولر سسٹمز کی تنصیب اور 2030 تک سالانہ 20 کروڑ ٹن کاربن کریڈٹس پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی نے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر بجلی کے نرخوں اور گردشی قرضے پر پڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر سولر اور ونڈ فارمز، جدید بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور قومی بجلی گرڈ کی اپ گریڈیشن پر سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی فراہمی زیادہ مستحکم ہوگی بلکہ کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کی گنجائش کی مد میں ہونے والے اضافی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی سب سے بڑی وجہ بجلی کے بلند نرخ اور عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہے۔ اسی وجہ سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں سولر سسٹمز کی تنصیب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












