اربوں روپے کی گرین لائن کی برقی سیڑھیاں غیر فعال، بزرگ شہری مشکلات کا شکار

کراچی: کراچی کے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے متعدد اسٹیشنز پر مسافروں کی سہولت کے لیے نصب برقی سیڑھیاں طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث خصوصاً بزرگ شہریوں کو اسٹیشنز تک آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
لسبیلہ، ناظم آباد، ماڈل پارک سمیت مختلف اسٹیشنز پر برقی سیڑھیوں کی عدم دستیابی کے باعث مسافروں کو پیدل سیڑھیاں استعمال کرنا پڑ رہی ہیں۔ بعض مقامات پر برقی سیڑھیاں موجود ہونے کے باوجود انہیں فعال نہیں کیا جارہا، جبکہ کچھ اسٹیشنز پر ان کے مختلف حصے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
گرین لائن منصوبے میں مسافروں کی سہولت کے لیے برقی سیڑھیوں اور لفٹس سمیت دیگر سہولیات فراہم کی گئی تھیں، تاہم ان کی دیکھ بھال اور مرمت سے متعلق مسائل کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بزرگ شہریوں کے لیے طویل اور پیدل سیڑھیاں چڑھنا خاص طور پر دشوار ثابت ہورہا ہے، جبکہ خواتین، بچوں اور دیگر مسافروں کو بھی اسٹیشنز تک پہنچنے اور واپس سڑک کی سطح پر آنے میں اضافی دشواری پیش آتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ناظم آباد نمبر ایک اسٹیشن سمیت بعض مقامات پر برقی سیڑھیوں کے سامان کی چوری اور ٹوٹ پھوٹ کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ان سہولیات کی بحالی مزید متاثر ہوئی ہے۔
گرین لائن کے برقی زینوں کی خرابی کا مسئلہ نیا نہیں، ماضی میں بھی مختلف اسٹیشنز پر اس نوعیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور بعض اوقات اسپیئر پارٹس کی دستیابی کو مرمت میں تاخیر کی وجہ بتایا گیا تھا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جدید سفری منصوبے میں فراہم کی گئی سہولیات کو فعال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ گرین لائن سے سفر کرنے والے بزرگوں اور دیگر مسافروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر فعال برقی سیڑھیوں اور لفٹس کی فوری مرمت کرائی جائے، خراب پرزے تبدیل کیے جائیں اور مستقبل میں ان سہولیات کی مؤثر دیکھ بھال کے لیے مستقل انتظام کیا جائے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









