ہفتہ، 3-اکتوبر،2026
ہفتہ 1448/04/22هـ (03-10-2026م)

پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ اختیار ولی خان

03 اکتوبر, 2026 14:04

اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔

اختیار ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو اپنا عسکری ونگ جبکہ ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنا رکھا ہے، تاہم یہ ان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط سے متعلق شواہد کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ حالیہ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک نوجوان کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ ایسے عناصر مساجد اور عوام پر حملوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ، اسپانسرنگ اور سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے۔

ان کے مطابق ذاکر اللہ کی تصاویر پی ٹی آئی کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ موجود ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے مارچ، جلسوں اور دھرنوں میں مبینہ طور پر خارجی عناصر کی شمولیت کے شواہد موجود ہیں۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کیے گئے حفاظتی اقدامات کی ایک وجہ دہشت گرد عناصر سے متعلق خطرہ بھی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے طور پر کام کر رہی ہے اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں اور واقعات سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کریں۔

اختیار ولی خان نے جنید اکبر سے بھی صوبے میں جاری سرگرمیوں اور معاملات پر مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی رہنماؤں کو بتانا چاہیے کہ وہ دہشت گردی سے متعلق واقعات اور سرگرمیوں کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں اور سامنے آنے والے مبینہ شواہد کو کس بنیاد پر مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے 9 مئی اور دیگر احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’عشقِ بانی‘ کی آڑ میں اسلام آباد کی جانب احتجاج اور ایسے واقعات کا کیا جواز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر اور 26 نومبر کے واقعات بھی اسی سلسلے میں دیکھے جانے چاہئیں۔

اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت اور کابینہ کی ذمہ داری ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ اب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک تک محدود نہیں رہا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنے مؤقف واضح کرنے چاہئیں۔

اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی کے ان کارکنوں سے بھی کہا جو جمہوریت، قانون اور امن کے حامی ہیں کہ وہ دہشت گردی سے متعلق الزامات اور مبینہ روابط کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں انتشار کی سیاست کو مزید قبول نہیں کیا جاسکتا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔