ایران جنگ کے باعث خام تیل سو ڈالر سے تجاوز کر گیا

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک سو آٹھ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی تیل کی قیمتوں میں تقریباً اٹھائیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس کے باعث جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تیل تنصیبات اور پانی کے پلانٹ پر حملے، ایران نے سنگین نتائج کی وارننگ دے دی
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔
ایک بڑے عالمی مالیاتی ادارے کے ماہر معاشیات بروس کاسمن کے مطابق موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتیں قلیل مدت میں ایک سو بیس ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم ہو گئی تو بعد میں قیمتوں میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی اور سیاسی حل سامنے نہ آیا تو تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔ اس صورت میں عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے اور صارفین کے لیے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










