افریقہ میں چینی اثر و رسوخ نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا، معدنی وسائل پر کنٹرول بڑھ گیا

چین نے گزشتہ 20 برسوں میں 35 افریقی ممالک کو توانائی کے شعبے میں 66 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے فراہم کیے ہیں، جبکہ امریکہ اس دوڑ میں پیچھے ہٹ رہا ہے۔
بوسٹن گلوبل ڈیولپمنٹ پالیسی سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے سال 2000 سے اب تک افریقہ کے تمام شعبوں میں 180 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ایک ہزار 319 قرضے فراہم کیے ہیں، جن میں 35 افریقی ممالک کے لیے صرف توانائی کے شعبے میں 66 ارب ڈالر کے قرضے شامل ہیں۔
چین نے افریقہ میں تیل، گیس، کوئلہ، جوہری، شمسی، پن بجلی اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کے تقریباً تمام شعبوں کی مالی معاونت کی ہے۔
چینی کمپنیوں نے افریقہ کے تانبے، کوبالٹ اور باکسائٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے بدلے وسائل کے معاہدے کیے، جس کے عوض افریقہ میں سڑکیں، اسپتال اور بجلی کا نظام بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ سے سبق، چین کا بڑا توانائی منصوبہ، صحرا میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار صنعتی مرکز قائم
سب سے زیادہ فنڈز حاصل کرنے والے ممالک میں انگولا 27 ارب ڈالر کے ساتھ سرِ فہرست ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کو 4.5 ارب ڈالر، سوڈان کو 4.15 ارب ڈالر، ایتھوپیا کو 3.5 ارب ڈالر، زیمبیا کو 3 ارب ڈالر سے زائد، یوگنڈا اور گھانا کو 2-2 ارب ڈالر، استوائی گنی کو 1.45 ارب ڈالر، کینیا کو 1.5 ارب ڈالر اور آئیوری کوسٹ کو 1.5 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے دیئے گئے۔
دوسری جانب امریکہ اس میدان سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افریقی گروتھ اینڈ اپرچونٹی ایکٹ کی مدت میں صرف ایک سال کی توسیع کی ہے، جو 31 دسمبر 2026 دو ہزار چھبیس کو ختم ہو جائے گی۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق یہ ایک ضائع شدہ موقع ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا، اور اس قانون کے ختم ہونے سے افریقی ممالک کو 2029 تک 189 ملین ڈالر کے برآمداتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










