دہشت گردی کیخلاف جنگ پوری قوم اور ریاست کی جنگ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر آج 2 بجے اہم پریس کانفرنس کریں گے
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم اور ریاست کی جنگ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں 2025 میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے اقدامات اور کامیاب آپریشنز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں ریاست اور عوام کو دہشت گردی کے مسئلے پر مکمل وضاحت حاصل ہوئی اور ریاست کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے، دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف مجموعی طور پر 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے۔ ان میں سے خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658 جبکہ بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز کیے گئے، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمتِ عملی اور عزم کا ثبوت ہیں۔
احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز، ریاستی ادارے اور عوام متحد ہیں اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 27 خودکش بم دھماکے ہوئے اور مجموعی طور پر 5 ہزار 397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور مشکل جنگ میں 1 ہزار 235 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔ قوم کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور بھارت کو سبق سکھانا ضروری تھا۔ بھارت سے دہشت گردوں کو پیسہ اور سرپرستی ملتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے۔
ترجمان پاک فوج نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور اس تناظر میں کہا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد اور کالعدم تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں اور دہشت گرد خود کو اسلام کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ ان کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بزورِ طاقت جیتی جائے گی اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستانی شہریوں یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچائے، افغانستان میں اس وقت کوئی مؤثر اور نمائندہ حکومت موجود نہیں، جو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ چند گھنٹوں میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور پاکستان میں دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان ملوث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور سرحد پار دہشت گردی کے باعث افغانستان کو سخت جواب دینا پڑا۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر اور شرکا نے شہدائے پاکستان کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث افغانستان کو سخت جواب دینا پڑا۔ ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ کہاں کہاں دہشت گرد موجود ہیں۔ خوارج دہشت گرد حملوں میں ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے۔ خیبرپختونخوا میں سیاسی طور پر دہشت گردی کے لیے موافق فضا موجود ہے
انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی اور کولیٹرل ڈیمیج سے متعلق جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاک فوج ڈرون استعمال کرتی ہے۔ کے پی میں خوارج نے 410 کواڈ کاپٹر حملے کیے جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ کے پی میں اپنی آرگنائزیشن میں باقاعدہ ایک کواڈ کاپٹر ونگ بنایا ہوا ہے۔ دہشت گرد مساجد، عام شہریوں کے گھروں کو استعمال کرتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کہا جاتا ہے 2026 میں افغانستان اور بھارت مل کر پاکستان پر حملہ کریں گے۔ افغانستان اور بھارت آجائیں، ان کا شوق پورا کریں گے۔ بھارتی میڈیا پر بیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے، چھپ کر نہ بیٹھے۔ مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیا اوتار مل گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے را نیٹ ورک چینلز کو بے نقاب کردیا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والے را نیٹ ورکس کی ویڈیوز میڈیا کو دکھائی گئیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے افغانستان دہشت گردی کا گڑھ ہے۔ اب پوری دنیا کہہ رہی ہے افغانستان دہشت گردی میں ملوث ہے۔ روس بھی کہہ رہا ہے افغانستان دہشت گردی کا منبع بن رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تاجکستان کہہ رہا ہے افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ امریکا کہہ رہا ہے ان کو یہاں سے نکالنا ہے جن کو ہم نے جمع کرلیا۔ یو این رپورٹ کہہ رہی ہے دہشت گرد افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں اور چین کہہ رہا ہے افغانستان میں دہشت گرد گروپس ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ قوم پر واضح ہوگیا کہ کے پی حکومت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کہاں کھڑی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے اور لوگوں کو کنفیوژ کرنے کے لیے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ فوج معدنیات اور ڈالرز کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈالرز کے لیے افغان طالبان دہشت گردی کرتے ہیں۔صرف تمہارے پاس نہیں، پورے پاکستان کے پاس معدنیات ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست چاہتی ہے معدنیات کا فائدہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ہو۔خیبرپختونخوا کے کئی جوان ملک کے خاطر جان قربان کرچکے۔ آپ جوانوں کی شہادتوں کو اپنی معدنیات سے جوڑ رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ کہتے ہیں فوج واپس چلی جائے۔ اے این پی اور دیگر سیاسی پارٹیاں دہشت گردی کیخلاف کھڑی ہوئیں۔ کہا جا رہا تھا ایک زمانے میں اے این پی کو بھی غیر مقبول کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے، اے این پی، جے یو آئی، پیپلز پارٹی، ن لیگ پر دہشت گردوں نے حملے کیے، فتنہ الخوارج نے کبھی پی ٹی آئی پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ یہ خود کہہ رہے ہیں ہم فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپ کابل سے بھیک مانگ رہے ہیں ہمیں سیکیورٹی دو، کہتے ہیں ملٹری آپریشن نہیں کرنا، دہشت گردوں کے پیروں میں بیٹھ جائیں؟ فوجی آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشت گردوں کی بیعت کرلیں؟ کیا خوارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے؟ تو پھر کرنا کیا ہے، کوئی جواب نہیں، یہ بس بیانیہ بنادیتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کیا بچیوں کو اسکولوں، کالجز سے ہٹالیں، غاروں میں بند کردیں؟ دلائل کے بجائے الزام تراشی کی جاتی ہے، فوج اپنا کام کررہی ہے، باقی سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کو کرنا ہے، دہشت گردی کیخلاف جو جنگ پاکستان نے لڑی دنیا نے نہیں لڑی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم حق پر ہیں اور حق کوغالب آنا ہے، دہشت گردوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، سب دہشت گردوں کا ایک ہی باپ ہے اور وہ افغان طالبا ن ہے، ہم سب کومل کر اپنی ریاست کو مضبوط کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج ان کی کوئی قومیت، انسانیت نہیں، بی ایل اے ، فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، انہیں علیحدہ علیحدہ مار پڑرہی تھی، افغان طالبان نے کہا اکٹھے ہوجاؤ، ان کا کوئی دین اور ایمان نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے کہا ان سے کوئی بات نہیں کرنی، دہشت گردوں کیخلاف ہر طریقے سے لڑیں گے، ہم نے جنازے اٹھائے ہیں، انہیں جہنم واصل کریں گے، ہمارا کام دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی قوم کے سامنے لانا ہے، کسی کی سیاست پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اختیارات مکمل لیے جاتے ہیں لیکن ذمے داری مکمل نہیں لیتے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، یہ اداروں کا نہیں شخصیات کا کھیل تھا، ایک لیڈر اپنی جماعت کو ایک آمر کی طرح چلاتا رہا، یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سیاست کیلئے استعمال کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ہر فورم پر دہشتگردی کیخلاف آپریشنز کی مخالفت کررہی ہے، دہشتگردی کیخلاف جو جنگ پاکستان نے لڑی ہے دنیا میں کسی نے نہیں لڑی، ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









