جمعہ، 14-اگست،2026
جمعہ 1448/03/01هـ (14-08-2026م)

کیو آر کوڈ پر مبنی قومی شناختی کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ

14 اگست, 2026 16:53

پاکستان میں قومی شناختی کارڈ کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کی گئی ہے۔

 نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے چِپ کے بغیر نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کروا دیا ہے۔ اس نئے کارڈ میں مائیکرو چِپ کے بجائے محفوظ کیو آر کوڈ استعمال کیا گیا ہے۔

نیا شناختی کارڈ پولی کاربونیٹ سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری پاکستان میں کی گئی ہے۔ نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (NSPC) کراچی نے یہ کارڈ نادرا کی مقررہ تکنیکی اور سیکیورٹی ضروریات کے مطابق تیار کیا ہے۔ اس سے شناختی کارڈ کی تیاری میں بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی مائیکرو چِپ پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا۔

نادرا کے نئے نظام میں کیو آر کوڈ بنیادی کردار ادا کرے گا۔ کارڈ پر موجود کوڈ کو اسمارٹ فون اور PakID موبائل ایپ کے ذریعے پڑھا جا سکے گا۔ اس کے ذریعے کارڈ پر درج شناختی معلومات کی تصدیق کی جائے گی۔ اس عمل کے لیے مخصوص چِپ ریڈر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر سے متعلق ضروری شناختی معلومات اور تصویر شامل ہوگی۔ اس سہولت سے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، اسپتالوں، پولیس، پاکستان ریلوے اور دیگر مجاز اداروں کو شناختی معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ ادارے مناسب سافٹ ویئر کے ذریعے کوڈ اسکین کر سکیں گے۔

اس نظام کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ شناختی معلومات کمپیوٹرائزڈ نظام میں زیادہ آسانی سے درج کی جا سکیں گی۔ نام، پتہ اور دیگر ضروری معلومات درج کرتے وقت ہونے والی غلطیوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس طرح مختلف اداروں میں شہریوں کا ڈیٹا درج کرنے کا عمل بھی زیادہ یکساں ہو سکے گا۔

نئے کارڈ پر کئی اہم معلومات اور نشانات بھی شامل ہوں گے۔ اس میں خاندان نمبر موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والے افراد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے مخصوص نشانات بھی درج کیے جائیں گے۔

شناختی کارڈ پر شہری کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھا جائے گا۔ کارڈ کی سیکیورٹی کے لیے نمایاں اور پوشیدہ دونوں طرح کے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ ان فیچرز کو موجودہ سیکیورٹی ضروریات اور پاکستان میں دستیاب ٹیکنالوجی کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں چِپ والا اسمارٹ قومی شناختی کارڈ تقریباً 14 سال پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔ تاہم اس نظام کے استعمال میں ایک بڑی مشکل چِپ ریڈرز اور ضروری انفراسٹرکچر کی محدود دستیابی رہی۔ اس وجہ سے چِپ سے منسلک کئی سہولیات عام سطح پر اس طرح استعمال نہیں ہو سکیں جس کی توقع کی گئی تھی۔

کیو آر کوڈ والا نیا شناختی کارڈ اس مسئلے کا حل فراہم کرتا ہے۔ اب شناختی کارڈ کی تصدیق کے لیے عام اسمارٹ فون یا کیمرے سے منسلک مناسب سافٹ ویئر استعمال کیا جا سکے گا۔ اس سے زیادہ اداروں کے لیے شناخت کی تصدیق کا نظام اپنانا آسان ہو جائے گا۔

وفاقی حکومت نے نئے شناختی کارڈ کے اجراء کی منظوری 23 فروری 2026 کو دی تھی۔ اب اس فیصلے پر مرحلہ وار عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ نیا کارڈ ایک دم تمام شہریوں کے لیے جاری نہیں کیا جائے گا بلکہ مختلف مراحل میں پرانے کارڈز کی جگہ لے گا۔

14 اگست 2026 سے پہلے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے میں سادہ ٹیسلن میٹریئل والے چِپ کے بغیر قومی شناختی کارڈ کی جگہ نیا پولی کاربونیٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس نئے کارڈ پر محفوظ کیو آر کوڈ موجود ہوگا۔

جنوری 2027 سے نئے کارڈ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ اس مرحلے میں تمام اقسام کے قومی شناختی کارڈز کے لیے یہی نیا کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس میں قومی شناختی کارڈ برائے بیرونِ ملک پاکستانی (NICOP) اور جووینائل کارڈز بھی شامل ہوں گے۔

اس کے بعد آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی نئے چِپ کے بغیر کیو آر کوڈ والے کارڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔ یوں شناختی کارڈ کی مختلف اقسام کو ایک جدید اور مقامی طور پر تیار کیے گئے نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

نادرا کے مطابق پہلے سے جاری تمام شناختی کارڈ اپنی مقررہ مدت تک قابلِ استعمال رہیں گے۔ شہریوں کو صرف نئے نظام کے آغاز کی وجہ سے فوری طور پر اپنا موجودہ کارڈ تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ موجودہ کارڈ کی میعاد ختم ہونے یا متعلقہ ضرورت کے وقت نئے نظام کے تحت کارڈ جاری کیا جائے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔