جمعہ، 19-جون،2026
جمعہ 1448/01/04هـ (19-06-2026م)

الیکشن کمیشن اور صدر نے انتخابات کی 8 فروری کی تاریخ دیکر آئینی خلاف ورزی کی: جسٹس اطہر

23 نومبر, 2023 18:21

اسلام آباد: جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ 90 سے ایک دن بھی زیادہ انتخابات میں تاخیر آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن اور صدر نے انتخابات کی 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا۔

سپریم کورٹ میں عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق کیس میں جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا اضافی نوٹ جاری کر دیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ 41 صفحات پر مشتمل ہے۔

اضافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ انتخابی عمل سے عوام کو باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، نگراں حکومتوں کا تصور کئی دیگر جمہوری ممالک میں نہیں ہے، نگراں حکومت صرف آئین میں دی گئی مدت تک کیلئے ہوتی ہے، ریاست 90 دن سے زیادہ تک منتخب نمائندوں کے بغیر نہیں چلائی جاسکتی، 90 سے ایک دن بھی زیادہ انتخابات میں تاخیر آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات: از خود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ کا تفصیلی نوٹ

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن میں تاخیر آئین کو معطل کرنے جیسا ہے، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کے بعد ختم نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات کی تیاری کرنا ہوتی ہے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضا ہے، انتخابات تاریخ دینا آرٹیکل 48 کی شق 5 کے تحت صدر کا ہی اختیار ہے، یقینی بنانا صدر کی ذمہ داری تھی عوام ووٹ کے حق سے 90 دن سے زیادہ محروم نہ رہیں، الیکشن کمیشن اور صدر نے انتخابات کی 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا۔

نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعت بنانا، سیاسی جماعت کا رکن ہونا اور انتخابات لڑنا آئینی حق ہے، گورنر خیبرپختونخواہ نے 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ نہ دی کر آئینی خلاف ورزی کی، کے پی اور پنجاب کے دونوں گورنرز نے آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، الیکشن کمیشن متحرک ہوا نہ ہی صدر مملکت نے مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داری ادا کی، صدر، گورنرز اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، آئین و قانون کے بر خلاف نگراں حکومتوں کے ذریعے امور چلائے جا رہے ہیں، شفاف انتخابات کرانے کی ذمے داری الیکشن کمیشن کی ہے، آئین سازوں نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے سے متعلق وسیع اختیارات دیے، عام انتخابات کے حوالے سے حائل رکاوٹیں دور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، انتخابات کروانے کے حوالے سے حکومتوں کو ہدایت دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔