پیر، 15-جون،2026
اتوار 1447/12/28هـ (14-06-2026م)

رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، پاکستان کے نظام عدل پر بڑے سنگین سوالات ہیں: نگراں وزیراعظم

02 جنوری, 2024 19:35

لاہور: انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہمیں رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، پاکستان کے نظام عدل پر بڑے سنگین سوالات ہیں۔

بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور کے طلباء و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے بات چیت کرنے پر خوشی ہوتی ہے، نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو قومی ترقی میں ا پنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ٹیکس محصولات عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہیں، ملکی آمدن اور خرچ میں فرق بہت زیادہ ہے، ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ نہایت ضروری ہے، ملک میں 10 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہورہی ہے، ٹیکس کی شرح میں کمی بڑاچیلنج ہے، تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں کیلئے ٹیکسیشن کا مربوط نظام ناگزیر ہے، ہمیں اپنے گورننس کے نظام میں بہتری لانی ہے، نگراں حکومت کے دور میں ایف بی آر نے ٹیکس ہدف حاصل کیا، پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح 9 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سال نو کی تقریبات نہ منانے کا مقصد دنیا کو فلسطین میں مظالم سے آگاہ کرنا تھا، فلسطین میں جاری مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، فلسطین کے مسئلے کو پاکستان نے او آئی سی سمیت تمام عالمی فورمز پر اٹھایا، مسئلہ فلسطین کا حل فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے، فلسطینی روز قربانیاں دے رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں مسئلے کا حل کیسے ممکن ہے، فلسطین میں مظالم پر دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان اضطراب میں ہیں، فیصلہ کرنے کا حق صرف فلسطینیوں کا ہے ہم ان کی ہرممکن مدد کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اسرائیل کے بجائے ہمارے کیخلاف محاذ کھڑا کر رکھا ہے، ہمارا پہلا مطالبہ فلسطین سے جنگی جنون کا خاتمہ ہے، فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی امریکا سے بات کی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں:انوار الحق کاکڑ

نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی مسئلے پر احتجاج ہو تو وہ قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں، قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ایکشن لیتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا جارہا ہے، اسلام آباد میں مظاہرین کو قانون کے مطابق روکا گیا ہے، قانون پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے، ریاست تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی، ہمیں رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، پاکستان کے نظام عدل پر بڑے سنگین سوالات ہیں۔

طالبہ نے وزیراعظم سوال کیا کہ قاسم کے ابا کو ہٹایا جاتا ہے تو عدالتیں رات 12 بجے کھل جاتی ہیں، نور مقدم جیسے کیس میں عدالتیں کیوں نہیں کھلتیں؟، کیا یہ انصاف میں تاخیر کے مترادف نہیں۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قاسم کے ابا جب خود وزیراعظم ہوتے ہیں تو انہیں حمید کی اماں نظر نہیں آتی، حمید کے والد کی طرف دیکھتے رہو گے تو قاسم کے ابا کا مسئلہ خراب رہے گا، ریاستی اداروں سے مدد نہ ملے تو سوتیلا والد بن جاتا ہے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔