لوٹوں کی سیاست کا بانی کون؟ تاریخ کا عجیب و غریب کردار

تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھن جانے کے بعد تمام ارکان آزاد حیثیت میں انتخابات لڑیں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد منتخب نمائندوں کی صورت میں سیاسی لوٹوں کی تعداد میں ہولناک اضافے کا خدشہ ہے۔ سیاسی لوٹے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں معروف اصطلاح ہے جس کے معنی ہے کہ منتخب نمائندے کی وفاداری خریدی جا سکے۔
مگر پہلا سیاسی لوٹا کون تھا؟ وہ کون سی شخصیت تھی جس کی بنا پر لوٹے کی اصطلاح سیاسی تاریخ کا حصہ بنی۔
ڈاکٹر شیخ محمد عالم، تاریخ میں سب سے پہلے انہیں ڈاکٹر لوٹا کا خطاب دیا گیا۔ ڈاکٹر شیخ محمد عالم 1887 میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ لاہور گورنمنٹ کالج سے تعلیم پائی، گریجویٹ کی ڈگری آکسفورڈ لندن سے حاصل کی، بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور لاہور میں وکالت کی پریکٹس کی۔ پڑھے لکھے قابل شخس تھے تھوڑے ہی عرصے میں پریکٹس چمک اٹھی۔ کوئی شک نہیں ڈاکٹر محمد عالم قابل اور شعلہ بیاں مقرر تھے۔
ان دنوں کانگریس اور خلافت تحریک زوروں پر تھی، ڈاکٹر شیخ محمد عالم نے وکالت کی پریکٹس ترک کی، کھدر کا لباس پہنا اور علی گڑھ جا پہنچے۔ محمد علی جوہر جامعہ ملیہ یونیورسٹی قائم کر رہے تھے ڈاکٹر صاحب کار خیر میں شامل ہو گئے، نائب شیخ الجامعہ بنے۔ تحریک خلافت میں بڑھ چڑھ کر شریک رہے۔ ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا سب چھوڑ چھاڑ کر واپس لاہور آئے، کھدر کا لباس اتارا، پرانے سوٹ نکالے اور پھر وکالت شروع کر دی۔
1926 پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں خاکسار تحریک کے امیدوار بنے اور راولپنڈی سے کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں قائد اعظم اور تحریک پاکستان مقبول ہو چکی تھی، کچھ عرصے بعد خاکسار تحریک چھوڑی اور مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ ابھی سال بھی نہ ہوا تھا کہ ڈاکٹر عالم نے قائد اعظم سے بھی اختلافات کی راہ ڈھونڈ نکالی، 1929 میں نہرو رپورٹ پر مسلم لیگ کا دہلی میں اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے منشور، کیا حقیقت پسندانہ ہیں؟
مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم تھی اور اتحاد کی کوشش کی جا رہی تھی، ابھی حکیم اجمل کے گھر میٹنگ جاری تھی کہ کچھ لوگ اجلاس گاہ پہنچ گئے اور اسٹیج پر قبضہ کر لیا، کوشش تھی کہ نہرو رپورٹ کے حق میں قرارداد منظور کروائی جائے۔ قائد اعطم کی جگہ جو صاحب کرسی صدارت پر براجمان ہوئے وہ کوئی اور نہیں ڈاکٹر شیخ محمد عالم تھے۔ ایک منٹ میں قرارداد پیش اور منظوری کا اعلان، جب لوگوں کو سمجھ آئی تو ڈاکٹر عالم کو گھسیٹ کر اتارا اور باہر نکالا، ڈاکٹر صاحب چلا رہے تھے قرارداد منظور، قرارداد منظور، اجلاس ملتوی، بس یہیں سے انکا نام ڈاکٹر لوٹا پڑ گیا۔
مسلم لیگ کے بعد 1929 ڈاکٹر لوٹا نے آل انڈیا مسلم نیشنلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ وہ کانگریس کی صفوں میں نظر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے مجلس عاملہ کے رکن بنا دئیے گئے۔ مگر ڈاکٹر لوٹا کو چین کہاں، تھوڑے ہی عرصے بعد کانگریس چھوڑ چھاڑ مجلس اتحاد ملت کے بنیادی رکن بن گئے۔ مجلس اتحاد ملت قائم ہوئے چند مہینے بھی نہ ہوئے تھے کہ مولانا ظفر علی خان نے نیلی پوش تحریک شروع کی تو ڈاکٹر لوٹا نیلا کرتا پہنے پہلی صف میں نظر آئے۔
راولپنڈی کی نشست پر ڈاکٹر لوٹا پنجاب اسمبلی کے رکن تھے مجلس اتحاد ملت کیجانب سے مگر جانے کیا سر میں سمائی کے ایک بار پھر کانگریس کا رخ کر لیا۔ 1945 میں ایک بار پھر خاکسار پارٹی کی جانب سے راولپنڈی سے انتخاب لڑا مگر لوگ اب انہیں ڈاکٹر لوٹا کا نام دے چکے تھے، کامیاب نہ ہوئے۔
ڈاکٹر عالم اب پنجاب نہیں پورے متحدہ ہندوستان کیلئے ڈاکٹر لوٹا بن چکے تھے، ذلت و رسوائی برداشت نہ کر سکے اور 9 مئی 1947 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












