جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

کراچی ، تباہ ہونے والے طیارے کی فائنل سنسنی خیز رپورٹ چار سال بعد جاری

25 فروری, 2024 10:22

 

ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز 8303 کو پیش آئے حادثے کو تقریبا چار سال گزرنے کے بعد فائنل رپورٹ جاری کر دی ہے۔

پی آئی اے کا ائیر بس 320 طیارہ 22 مئی 2020 کو لینڈنگ کے دوسری کوشش کے دوران کراچی ائیرپورٹ کے قریب آبادی ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا تھا، طیارہ حادثے کی رپورٹ ایوی ایشن ڈویژن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ واضح طور انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا، لینڈنگ سے پہلے چار مرتبہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو لینڈنگ سے روکتے ہوئے بتایا کہ طیارے کی اونچائی بہت زیادہ ہے، پانچویں مرتبہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے لینڈنگ کی اجازت دے دی۔

رپورٹ کے مطابق لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران طیارے کے انجن رن وے سے ٹکرانے اور رگڑنے کی وجہ سے شعلے بھی نکلے، طیارے کے انجن ٹکرانے اور شعلے نکلنے کے بارے میں ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو نہیں بتایا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے دونوں انجن رن وے سے ٹکرانے کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے، ٹکر کی وجہ سے دونوں انجنوں کو لبریکینٹ آئل فراہم کرنے والا نظام خراب ہو گیا، جس کی وجہ سے دونوں انجن بند ہو گئے اور انجن بند ہونے سے طیارہ گر کر حادثے کا شکار ہوا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ طیارے کے دونوں پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز میں رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان تھا، لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران دونوں پائلٹ لینڈنگ کیلئے یکسو نہیں تھے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ لینڈنگ کی پہلی کوشش کے وقت طیارے کے لینڈنگ گیر کھلے تھے لیکن عین لینڈنگ کے وقت دونوں پائلٹ میں سے کسی ایک نے لینڈنگ گیئر دوبارہ بند کر دیے تھے، طیارے نے پہلی مرتبہ بغیر لینڈنگ گیر کے لینڈنگ کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حادثہ کی انتظامی ذمہ داری پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پائلٹس کے روزہ رکھ کر طیارہ اڑانے کے بارے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قوانین واضح نہیں ہیں اور پی آئی اے میں فلائٹ ڈیٹا اینالائسز (FDA) پر عمل نہیں ہو رہا، فلائٹ ڈیٹا اینالائسز نہ ہونے کی وجہ سے دوران پرواز پائلٹس کی غلطیاں نوٹس میں نہیں آتیں۔

رپورٹ کے مطابق طیارے کے دونوں انجن بند ہونے سے بجلی کی فراہمی بند ہو گئی تھی، بجلی کی فراہمی بند ہو جانے کی وجہ سے پرواز کا آخری 4 منٹ کا ڈیٹا ریکارڈ نہیں ہو سکا۔

یہ پڑھیں : بدقسمت طیارہ حادثہ: معجزانہ طور پر بچ جانے والے مسافر کی حیرت انگیز داستان

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔