سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا کیس ،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے کہا جنرل الیکشن نہیں لڑے نہ مخصوص نشستیں چاہئیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو اپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کی سیکشن 206پر عملدرآمد سے متعلق خط کا جواب دیا ہے۔
اس خط کے متن میں درج ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے انتخابی نشان پر کوئی امیدوار انتخاب نہیں لڑا،جنرل نشستوں پر خواتین امیدواروں کی فہرست موجود نہیں،سیکشن206سیاسی جماعتوں کوجنرل نشستوں پر خواتین کو5فیصد ٹکٹ دینے کاپابند ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو سنی اتحاد کونسل نے ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا۔
اس سے قبل کی کاروائی میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی وکیل نے سپریم کورٹ میں مانا تھا کہ اگر ہم سے نشان لے لیا گیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی، بیرسٹر گوہر علی اورپی ٹی آئی وکیل علی ظفرکمیشن میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے اعتراض کیا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز فیصلہ کیا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ ہم نے تمام جماعتوں کو نہیں بلایا صرف انہیں بلایا جو مخصوص نشستوں کی حق دار ہیں۔
علی ظفر نے دلائل دیے کہ تمام جماعتیں اس کیس میں پارٹی نہیں ہیں، سنی اتحاد کونسل کی چار درخواستیں کمیشن کے سامنے ہیں، الیکشن کمیشن نے ہماری درخواستوں کو التوا میں رکھا تاکہ باقی جماعتوں کی درخواستیں بھی آ جائیں، اس کے بعد ہماری درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں۔
علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گے، سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انتخابی نشان لینے سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ متاثر نہیں ہو گی، لیکن اب ہمارے خدشات اور پیش گوئی درست ثابت ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کے وکیل نے سپریم کورٹ میں مانا تھا کہ اگر ہم سے نشان لے لیا گیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
بیرسٹر علی ظفر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ، جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ، سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے کے پی میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ، جس پر ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ،خیبرپختونخوا نام ہے،بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے کہہ دیا۔
کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا اور پھر مزید کہا کہ لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ۔
جس پر چیف الیکشن کمشنر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ۔
یہ پڑھیں : قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا مرحلہ ، کس پارٹی کو کتنی نشستیں ملے گی؟
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












