غزہ جنگ بندی؛ حماس نے تجویز کو یکسر مسترد کردیا

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ جنگ بندی کی امریکا اور اتحادیوں کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مصری صدر اور امریکی حکام کی جانب سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما نے عارضی جنگ بندی کو روکنے کا مقصد محض دوبارہ حملوں کا نیا دور شروع کرنے سے تشبیہ دی، حماس عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل جنگ بندی کی حمایت کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: "غزہ جنگ بندی؛ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد مشکل ہے”
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے متعلق ہمارا موقف واضح ہے۔
گزشتہ دنوں امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر نے بیل بیرنز انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی اور قطری ہم منصب کے ساتھ غزہ اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک نئے فارمولے پر بات چیت ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی؛ نیا فارمولا منظر عام پر آگیا
نئی جنگ بندی معاہدے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ 28 روز کی مدت کیلئے جنگ بندی کے عوض فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس 8 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جبکہ اسکے برعکس اسرائیل درجنوں قید فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔
تاہم اس فارمولے میں حماس کا کوئی مطالبہ شامل نہیں تھا، جس پر مبصرین کا کہنا تھا کہ مزاحمتی تنظیم اس پیشکش کو ٹھکرا دے گی۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












