پیر، 30-مارچ،2026
پیر 1447/10/11هـ (30-03-2026م)

سعودی عرب نے 21 پاکستانیوں کو پھانسی دے دی

18 نومبر, 2024 13:43

سعودی عرب نے 21 پاکستانیوں سمیت 100 سے زائد غیر ملکیوں کو منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت دی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق 2022 اور 2023 کے مقابلے میں ان پھانسیوں کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، اس دوران سعودی حکام نے مختلف جرائم میں سزا یافتہ 34 غیر ملکیوں کو پھانسی دی۔

2024 میں سزائے موت پانے والے غیر ملکیوں میں پاکستان کے 21، یمن کے 20، شام کے 14، نائیجیریا کے 10، مصر کے 9، اردن کے 8 اور ایتھوپیا کے 7 افراد شامل ہیں۔

ان میں سے تین کا تعلق سوڈان، بھارت اور افغانستان سے تھا جبکہ سری لنکا، اریٹریا اور فلپائن سے ایک ایک شخص کو پھانسی دی گئی۔

سعودی عرب میں رواں سال اب تک مجموعی طور پر 274 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جو گزشتہ تین دہائیوں میں سزائے موت کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

تاہم سعودی عرب کو سزائے موت پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے، انسانی حقوق کے گروپ نے بھی سعودی اقدام و قانون کی مذمت کی ہے۔

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے نجران میں 16 نومبر کو ایک یمنی شہری کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس پھانسی کے بعد اس سال مملکت میں سزائے موت پانے والے غیر ملکی شہریوں کی مجموعی تعداد 101 ہو گئی ہے۔

رواں سال منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت پانے والے 92 افراد میں سے 69 غیر ملکی تھے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔