پیٹرول مہنگا کرکے آئل ریفائنری، مارکیٹنگ کمپنیوں کو 53 ارب ادا کرنے پر غور

پیٹرول مہنگا کرکے آئل ریفائنری، مارکیٹنگ کمپنیوں کو 53 ارب ادا کرنے پر غور
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے آئل ریفائنری اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو 53 ارب روپے ادا کرنے پر غور شروع کردیا۔
باخبر حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹیکس کی ناقص حکمت عملی کے باعث آئل ریفائنری اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو چھ ماہ میں 53 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے بعد کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کردیے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول و ڈیزل 5 روپے فی لیٹر مہنگا کرکے کمپنیوں کا نقصان پورا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن میں اضافہ کرکے کمپنیوں کو رقم ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیے جانے پر پیٹرولیم ڈویژن حکام کی دوڑیں لگ گئی ہیں، شہباز شریف نے حکام کو دو ہفتے میں معاملہ حل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس کے علاوہ ذرائع نے مزید بتایا کہ کمپنیوں کا نقصان پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے روک دیا ہے۔
سیلز ٹیکس تنازع کے باعث ریفائنریاں اپ گریڈیشن منصوبے کے معاہدے پر دستخط نہیں کر رہیں جب کہ منصوبے کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس تنازع حل کرنا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی نے بھی ریفائنری پالیسی پر تاخیر پر رپورٹ طلب کرلی ہے جس کا اجلاس 11 دسمبر کو طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












