جنوبی کوریا کے صدر عہدے سے فارغ، مواخذے کی تحریک کامیاب

جنوبی کوریا کے صدر عہدے سے فارغ، مواخذے کی تحریک کامیاب
جنوبی کوریا کے صدر کے یون سک یول کے خلاف ملک میں مارشل لا نافذ کرنے پر حزب اختلاف کی مواخذے کی تحریک کامیاب ہوگئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے خلا مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ سے قبل دارالحکومت سیئول میں ہزاروں کی تعداد میں شہری صدر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے ہفتے کے روز موجودہ صدر یون سک یول کا مواخذہ کرنے اور انہیں انکی سرکاری ذمہ داریوں سے معطل کرنے کے حق میں کامیابی کے ساتھ ووٹ دیا ہے۔
مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے حکمران جماعت اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پہنچے جبکہ جنوبی کورین اسمبلی کے اسپیکر نے تمام قانون سازوں سے مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
مزید پڑھیں:جنوبی کوریا کے صدر کا ملک میں نافذ مارشل لاء اٹھانے کا اعلان
مزید پڑھیں:جنوبی کوریا نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا
مواخذے کی تحریک میں 300 اراکین نے حصہ لیا اور صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہو گئی جس کے بعد وزیراعظم ہاں ڈک سو جنوبی کوریا کے قائم مقائم صدر ہوں گے۔
صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کی کامیابی کے لیے ایوان کے دو تہائی ارکان یعنی 200 ووٹ درکار تھے جبکہ اپوزیشن کو صدر کے خلاف مواخذے کے لیے حکومتی بینچز سے بھی کم از کم 8 ووٹ درکار تھے۔ حکومتی بینچز سے صدر کے خلاف ووٹ پڑنے پر مواخذے کی تحریک کامیاب ہو گئی۔
یہ تحریک یون کی پیپلز پاور پارٹی کے کچھ ارکان کے حزب اختلاف کی جماعتوں میں شامل ہونے کے بعد پیش کی گئی، جو 300 رکنی قومی اسمبلی میں 192 نشستوں پر قابض ہیں اور مواخذے کے لیے درکار دو تہائی حد کو کلیئر کر دیتی ہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












