ضلع کرم پاراچنار؛ صوبائی حکومت بچوں کی اموات کے بعد نیند سے بیدار ہوگئی

ضلع کرم پاراچنار؛ صوبائی حکومت بچوں کی اموات نیند سے بیدار ہوگئی (فوٹو: فائل)
رپورٹر: اقبال حسین
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں راستوں کی بندش اور بروقت علاج نہ ملنے کے سبب بچوں کی ہلاکتوں کے بعد صوبائی حکومت بھی غلفت نیند سے بیدار ہوگئی۔
پشاور میں پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت ضلع کرم کے آمدورفت کے تمام راستے تاحال بند ہیں جس کی وجہ سے علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ادھر خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور ایدھی فاؤنڈیشن ائیر ایمبولنسز کے ذریعے پارہ چنار اسپتال کو میڈیسن پہنچائی جارہی ہیں تاکہ بچوں اور بزرگوں کی جانوں کو بچایا جاسکے۔
مزید پڑھیں: ضلع کرم پاراچنار میں ادویات کی کمی، انسانی نقصان المیہ بننے لگا
ائیر ایمبولنس کے ذریعے شدید بیمار مریضوں کو پشاور منتقل کیا جارہا ہے تاکہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب گرینڈ جرگہ نے کوہاٹ میں فریقین کے ساتھ 9 روز سے مذاکرات جاری ہیں جہاں دونوں فریقین اپنے مطابات پیش کررہے ہیں تاہم ابتک کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔
پاراچنار کو دیگر اضلاع سے جوڑنے والی سڑک ہر قسم آمد و رفت کیلئے بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 4 لاکھ آبادی علاقے میں محصور ہوکر رہ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ضلع کرم پاراچنار؛ راستوں کی بندش اور علاج نہ ملنے سے 29 بچے جاں بحق
شہر میں ادویات، ایندھن، ایل پی جی، پھل اور سبزیاں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ ختم ہو گئی ہیں جب کہ پاک افغان خرلاچی بارڈر بھی ہر قسم کی تجارت کے لیے بند ہے۔
ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پاراچنار ڈاکٹر سید میر حسن جان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یکم اکتوبر سے اب تک پاراچنار اسپتال میں علاج نہ ملنے اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے 29 بچے دم توڑ گئے ہیں۔تاہم انہوں نے ادویات اور آپریشن کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دیگر اموات کی تعداد نہیں بتائی جس کے بعد تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












