بدھ، 25-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

اخراجات کا پیکج مسترد، امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گیا

20 دسمبر, 2024 12:51

امریکی ایوانِ نمائندگان نے اخراجات سے متعلق بل کو مسترد کر دیا جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود 38 ری پبلکنز ارکان نے پیکج کے خلاف ووٹ دیا جب کہ تین ڈیموکریٹس ارکان کے علاوہ تمام نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ری پبلیکنز کی جانب سے پیش کردہ حکومتی اخراجات کے پیکج پر ووٹنگ کے دوران 235 ارکان نے اس کی مخالفت کی جب کہ 174 نے حمایت میں ووٹ دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومتی فنڈنگ کی میعاد جمعے کی شب ختم ہو رہی ہے۔ اگر قانون ساز ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے میں ناکام رہے تو امریکی حکومت جزوی شٹ ڈاؤن پر چلی جائے گی۔

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن میں جانے سے حکومتی ادارے معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھ پائیں گے اور اس کے باعث مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک سرکاری خدمات متاثر ہوں گی۔

امریکی ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے خبردار کیا کہ کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر مسافروں کو ائیرپورٹس پر لمبی قطاروں میں لگنا پڑسکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی کانگریس کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹک اور ری پبلکن اراکین ایک عبوری بجٹ پیکج پر کام کر رہے تھے۔ تاکہ وفاقی اداروں کو اگلے سال 14 مارچ تک کام کرنے کے لیے فنڈز دستیاب رہیں۔

تاہم ٹرمپ اور ان کے حامی امیر ترین شخص ایلون مسک نے عبوری بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ڈیموکریٹس کے لیے ایک فضول تحفہ قرار دیا تھا۔

شٹ ڈاؤن میں کیا ہوتا ہے؟

امریکا میں شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔

البتہ ‘ناگزیر’ کاموں سے منسلک اہلکاروں اور ملازمین کو معطل نہیں کیا جاتا مگر انہیں تنخواہ ادا نہیں کی جاتی یعنی وہ بغیر معاوضے کے خدمات انجام دیتے ہیں۔

شٹ ڈاؤن کے دوران ٹیکس جمع کرنے اور ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

ہر وفاقی ادارہ اور محکمہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو ادائیگیوں کے بغیر بھی کام جاری رکھنا ہو گا۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار گورنمنٹ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے جن میں سے کئی بار محض ایک یا دو روز کے لیے ہوئے۔

حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا۔ دسمبر 2018 میں شروع ہونے و الا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا۔

اس شٹ ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت کے 22 لاکھ ملازمین میں سے آٹھ لاکھ کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شٹ ڈاؤن اس صورت میں ہوتا ہے جب وفاقی حکومت اخراجات کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل نہ کر پائے

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔