منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

یاسین ملک کو 34 سال پرانے جعلی مقدمے میں سزائے موت کا سامنا

23 دسمبر, 2024 19:47

بھارت نے کشمیری رہنما یاسین ملک سمیت دیگر حریت رہنماؤں کو کئی سالوں سے نئی دہلی کی جیل میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے  19 مئی 2022 کو یاسین ملک کو بھارتی ریاست کیخلاف سازش اور جنگ چھیڑنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی/آر ایس ایس حکومت کے پہلے 5 سالوں کے دوران ان پر یا انکی جماعت پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
بھارتی عدالت نے یاسین ملک کو 30 سال پرانے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی جبکہ بین الاقوامی میڈیا الجزیرہ نے بھارتی غیر قانونی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا: ’’یہ سیاسی انتقام لگتا ہے‘‘

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان مقدمات نے اقوام متحدہ کی جانب سے متنازعہ قرار دیے گئے علاقے میں یہ خوف پیدا کیا کہ بھارتی ریاست نے پہلے ہی ان کی سزائے موت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مارچ 2020 میں جیل سے خاندان کے ذریعے جاری کردہ کھلے خط کے مطابق جے کے ایل ایف نے 1994 میں بھارتی ریاست کی طرف سے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سیاسی تصفیہ اور "عسکریت پسندی سے متعلق مقدمات” کو معطل کرنے کی یقین دہانی کے بعد یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کو ’’انتہائی قابل مذمت‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ یاسین ملک پر ’’من گھڑت الزامات‘‘ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ’’پاکستان کے خلاف مفروضاتی الزامات‘‘ عائد کرنے کی کوشش بھی ہیں۔

بھارت نے جنگ بندی کے اس وعدے کی خلاف ورزی کی جو 1994 میں کیا گیا تھا، جب جموں کی ٹی اے ڈی اے عدالت نے 30 سال پرانے مقدمات کی سماعت شروع کی جو اس معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔

یاسین ملک نے جج پر ’’استغاثہ یا پولیس افسر‘‘ کے طور پر کام کرنے کا الزام لگایا اور منصفانہ مقدمے سے انکار کیا۔  انہوں نے کہا ’’میرے پاس قانونی حق ہے کہ میں عدالت میں جسمانی طور پر پیش ہوں، لیکن جج اور سی بی آئی حکومت کے کہنے پر مجھے پیش ہونے کی اجازت نہیں دے رہے۔‘‘

یاسین ملک کے وکیل طفیل راجہ نے انکے خلاف مقدمات کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا۔  طفیل راجہ نے کہا کہ اگر حکومت انہیں منصفانہ ٹرائل کی پیشکش نہیں کرتی تو وہ بائیکاٹ کریں گے۔

انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز نے کہا کہ منصفانہ سماعت ہر ایک کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی بھارتی حکومت پر یاسین ملک کے ساتھ غیر منصفانہ رویے کا الزام عائد کیا۔

بھارت کو یاسین ملک کے ان سوالوں کا جواب دینا چاہیے جو بی جے پی کے چھپے ہوئے ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
’’اگر میں دہشت گرد تھا تو بھارت کے سات وزرائے اعظم نے مجھ سے کیوں ملاقات کی؟
اگر میں دہشت گرد تھا تو اس پورے مقدمے کے دوران میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہیں داخل کی گئی؟
اگر میں دہشت گرد تھا تو وزیر اعظم واجپائی نے مجھے پاسپورٹ کیوں جاری کیا؟
اگر میں دہشت گرد تھا تو مجھے دنیا بھر کے مختلف اداروں میں لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا گیا؟‘‘

خیال رہے کہ عدالتی قتل’ کی ایک اور سازش یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے 1984 میں جے کے ایل ایف کے بانی مقبول بٹ کو عدالتی طور پر قتل کر کے پھانسی دی۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خدشہ ہے کہ یاسین ملک بھی اسی طرح کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ سابق بھارتی سفارت کار وجاہت حبیب اللہ نے بھی اس بارے میں قیاس آرائیوں کو تسلیم کیا ہے کہ انہیں پھانسی دی جا سکتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے آزاد محقق فیضان بھٹ نے کہا کہ ’’جب کشمیری سیاسی قیدیوں کی بات آتی ہے، تو بھارتی ریاست کے علاوہ ان کی عدلیہ بھی تمام قوانین اور ہدایات کو نظرانداز کر دیتی ہے‘‘۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کی جانب سے یاسین ملک کے یکطرفہ ٹرائل کو ’’کینگرو کورٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ یو کے کے وزیر خارجہ طارق احمد نے 17 مئی 2022 کو ہاؤس آف لارڈز میں کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کے مقدمے کی قریب سے نگرانی کی تصدیق کی۔

برطانوی پارلیمنٹیرین لارڈ قربان حسین نے کہا کہ یاسین ملک ایک ’’نمایاں کشمیری رہنما‘‘ ہیں جن کے برطانیہ میں بھی بڑے پیمانے پر حامی ہیں۔ لارڈ قربان حسین نے دعویٰ کیا کہ کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ بھارتی حکومت یاسین ملک کو راستے سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ’’ان کی زندگی کو حقیقی خطرہ ہے۔‘‘

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔