منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیزی؛ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی

27 دسمبر, 2024 18:56

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتما بن گویر اور انکے حواریوں نے ایک مرتبہ پھر مسجد اقصیٰ کے احاطے کی بےحرمتی کرتے ہوئے اشتعال انگیز دورہ کرڈالا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے یروشلم میں مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی کرتے ہوئے دورہ کیا اور قواعد کے برعکس دعا بھی مانگی جبکہ سیکورٹی پر معمور اسرائیلی اپنے وزیر کے اردگرد گھومتے رہے۔

فلسطینی خود مختار اتھارٹی اوراردن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے اس اسرائیلی سیاست دان کا وہاں جانا دانستہ اشتعال انگیزی ہے۔ اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کر کے اسے اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل؛ یہودی آبادکاروں نے مسجد پر دھاوا بول دیا، آگ لگادی

مسجد اقصیٰ کے احاطے تک تو یہودی جا سکتے ہیں تاہم ان کے وہاں عبادت کرنے یا دعا مانگنے پر خود اسرائیل نے بھی پابندی لگا رکھی ہے۔

بین گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر بیان میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ٹیمپل والی جگہ پر گیا تھا تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں اسرائیل کی مکمل فتح کیلئے دعا کر سکوں۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کے دو انتہا پسند وزراء آپس میں لڑ پڑے

یاد رہے اس وقت درجنوں اسرائیلی یرغمالی غزہ میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی قید میں ہیں۔

مزید پڑھیں: صہیونی وزیر نے آبادکاروں کے ہمراہ ابراہیمی مسجد پر دھاوا بول دیا

مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت اور دعا پر پابندی کی وجہ یہ ہے کہ مشرقی یروشلم میں یہ تاریخی مقام مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کے لوگوں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔ یہ مقام

خاص طور پر مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین کشیدگی کا باعث ہے اور اپنی تاریخی حیثیت کی وجہ سے اس لیے بھی متنازع ہے کہ دونوں ہی اس پر اپنی ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔