کمال عدوان اسپتال "اب خالی” ہزاروں زخمیوں کی زندگیاں خطرے میں

کمال عدوان اسپتال "اب خالی" ہزاروں زخمیوں کی زندگیاں خطرے میں (فوٹو: فائل)
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد کمال عدوان اسپتال "اب خالی” ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صہیونی فوج کے حملے کے باعث شمالی غزہ میں صحت کا آخری بڑا مرکز خدمات انجام دنے سے محروم قاصر ہوگیا ہے۔
ادارے نے بتایا کہ اسپتال دوبارہ میدان جنگ بن گئے ہیں، چھاپے کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس ہے جبکہ صحت کی سہولت فراہم کرنے والا واحد اسپتال بھی غیر فعال ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ کا واحد فعال اسپتال نذر آتش؛ ڈائریکٹر بھی زیرِ حراست
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت نے ایک بیان میں مزید کہا کہ نظامِ صحت کو منظم طریقے سے ختم کرنے اور شمالی غزہ پر 80 دنوں سے زائد محاصرے کے باعث علاقے میں موجود باقی 75,000 فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج نے کمال عدوان اسپتال کو آگ لگادی، 50 شہید
خیال رہے کہ قابض صہیونی فوج نے اسپتال کو نذر آتش کرنے کے بعد اسپتال کے ڈائریکٹر کو بھی حراست میں لیتے ہوئے دیگر ڈاکٹرز کو بھی اغوا کرلیا ہے۔
گزشتہ روز اسرائیلی فورسز نے غزہ کے کمال عدوان اسپتال کو آگ لگادی جبکہ ڈاکٹرز کو برہنہ کرکے ننگے پاؤں جنوبی حصے کی طرف لے گئے تھے۔
اسرائیلی فورسز نے مزاحمتی تحریک حماس کیخلاف محاصرے کرکے نام پر 50 سے زائد فلسطینوں کو شہید کردیا۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












