جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

اگر ایران سے معاہدہ ممکن نظر آیا تو صدر ٹرمپ حملہ مؤخر کر سکتے ہیں، امریکی رپورٹ

07 اپریل, 2026 11:18

امریکی صدر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو ایک سفارتی معاہدے کی صورت میں ملتوی کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے حکام میں ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس اور معتبر ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائی کو اس صورت میں مؤخر کرنے پر غور کر رہے ہیں اگر تہران کی جانب سے کسی بڑے سفارتی معاہدے کی ٹھوس علامات سامنے آئیں۔

ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی جاری مذاکرات سے نکلنے والے کسی بھی قابلِ قبول حل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران مطلوبہ شرائط پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے زیرِ زمین میزائل شہر، ریل نظام اور خودکار لانچرز، جسے جدید بم بھی تباہ نہ کرسکے

وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ موجودہ ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کرنے کے حق میں نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ سفارت کاری کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکہ کی حمایت یافتہ حالیہ تجویز پر موصول ہونے والے ردعمل کو واشنگٹن میں سخت قرار دیا گیا ہے، لیکن بعض حکام اسے مکمل انکار کے بجائے مذاکراتی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ تمام تر پیش رفت صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس مہلت کے پس منظر میں ہو رہی ہے، جس کے مطابق ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر تہران اس ڈیڈ لائن پر پورا نہ اترا تو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا، اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ پورے ملک کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، بعض امریکی حکام نے نجی طور پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اب کسی معاہدے کی امید کم ہی رکھتے ہیں اور وہ منگل کی شام ہی سے حتمی حملے کے احکامات جاری کرنے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔

پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس میں جنگی طیاروں کی تیاری اور اہداف کی فہرستوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ان آخری چند گھنٹوں پر جمی ہیں کہ آیا تہران کوئی ایسی پیشکش کرے گا، جو صدر ٹرمپ کو حملے کا حکم دینے سے روک سکے، یا پھر مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔