پیر، 15-جون،2026
اتوار 1447/12/28هـ (14-06-2026م)

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ : نیب ترامیم کالعدم قرار دےدی گئی

15 ستمبر, 2023 17:20

اسلام آباد: سپریم کورٹ نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے اپنی مدت ملازمت کے آخری روز اس تاریخی کیس کا فیصلہ سنایا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لیڈیز اینڈ جنٹلمین، میں دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنا رہے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہاگیا ہےکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دی جاتی ہے، 500 ملین کی حد تک کے ریفرنس نیب دائرہ کار سے خارج قرار دینے کی شق کالعدم قرار دی جاتی ہے تاہم سروس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کی شقیں برقرار رکھی جاتی ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں، عوامی عہدوں کے ریفرنس ختم ہونے سے متعلق نیب ترامیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

عدالت نے 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بحال کردیے اور عدالت نے کہا کہ تمام ختم انکوائریز،کیسز بحال کیے جاتے ہیں، تمام کیسز نیب عدالتوں اور احتساب عدالتوں میں دوبارہ مقرر کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قرار دی ہیں،عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہےکہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے، نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں۔

یاد رہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں جس پر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے نیب ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر 53 سماعتیں کیں۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اس حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس اہم کیس کا فیصلہ کر کے جاؤں گا۔

عدالت عظمیٰ کے تین رکن بینچ میں چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے پر اختلاف کیا ہے۔

 یہ پڑھیں : نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ،ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ سناؤں گا:چیف جسٹس

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔