اسلام آباد میں نجی اسکولوں کا بڑا اقدام: 4,000 سے زائد غیر اسکولی بچوں کو مفت داخلہ

اسلام آباد، 14 جون 2026 — وفاقی وزارتِ تعلیم کی زیرِ قیادت جاری ’’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘‘ مہم کے تحت اسلام آباد میں 4,000 سے زائد غیر اسکولی بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مفت داخلہ فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام نجی اسکولوں کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے اور اسے ملک میں تعلیمی شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کا جائزہ پیرنٹس ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (PEIRA) کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا، جس کی صدارت چیئرمین پیرا ڈاکٹر غلام علی ملّاح نے کی۔ اجلاس میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (NCHD) کے ڈائریکٹر جنرل علی اصغر، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) کے نمائندے بلال عزیز اور پیرا کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے وفاقی سیکریٹری تعلیم کی قیادت اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی میں داخلہ مہم نے نمایاں رفتار حاصل کی ہے۔ شرکاء کے مطابق ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانے کے قومی مشن میں وزارتِ تعلیم کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی این سی ایچ ڈی علی اصغر نے بتایا کہ اسلام آباد کی دیہی یونین کونسلوں میں تقریباً 80 ہزار گھرانوں پر مشتمل سروے کے دوران 5 سے 16 سال عمر کے 24 ہزار سے زائد ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی جو اسکول سے باہر تھے۔ ان بچوں کا ڈیٹا مزید کارروائی اور داخلے کے لیے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) اور پیرا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پیرا کے مطابق 100 سے زائد نجی اسکول اس مہم میں شامل ہو چکے ہیں اور انہوں نے 4,000 سے زائد بچوں کو بلا معاوضہ تعلیم فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چیئرمین پیرا ڈاکٹر غلام علی ملّاح نے نجی تعلیمی اداروں کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکول مالکان اور انتظامیہ نے اس اقدام کو محض ضابطہ جاتی تقاضا نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ سمجھ کر قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیرا زیادہ سے زیادہ غیر اسکولی بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کا مثبت کردار حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی مہم کی کامیابی میں اہم ثابت ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر غلام علی ملّاح نے اس موقع پر مہم میں شامل شراکت دار اداروں، بشمول NCHD، BECS، NEF، FDE، PIE، JICA اور مختلف بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (INGOs)، کی خدمات کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے تعاون نے وزارتِ تعلیم کی کوششوں کو مؤثر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے داخل ہونے والے بچوں کو مفت درسی کتب، اسٹیشنری اور دیگر ضروری تعلیمی سامان فراہم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی طلبہ کی حاضری اور تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا نظام بھی وضع کیا جائے گا۔
مہم کی شفافیت اور پیش رفت کی مؤثر نگرانی نیشنل فارمل اینڈ نان فارمل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (NFEMIS) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جسے PIE، جائیکا کے تکنیکی تعاون سے چلا رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جون 2026 کے اختتام تک اسلام آباد میں 25 ہزار غیر اسکولی بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے
Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










