اسرائیلی حملوں میں اب تک 232 فلسطینی شہید، 1700 سے زائد زخمی ہوگئے

اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملے کے جواب میں اب تک 232 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں زخمی فلسطینیوں کی تعداد 1700 سے بھی زائد ہوچکی ہے۔
حماس کے حملوں میں 250 اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے بدلہ لینے کیلئے 20 لاکھ سے زائد افراد کی آبادی پر مشتمل پورے غزہ کو خالی کرنے کا مطالبہ کردیا۔
اس سے پہلے حماس نے اسرائیل پر 7 ہزار راکٹ داغے تھے جس میں اسرائیلی میڈیا کے مطابق 1450 سے زائد اسرائیلی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کے انچارج فوجی افسر میجر جنرل نمرود الونی سمیت متعدد فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔
برطانوی اخبار نے حماس کے ہاتھوں یرغمال میجر جنرل نمرود کی گلیوں میں گھمانے کی تصویر بھی شائع کی ہے، میجر جنرل نمرود الونی حماس کے خلاف کارروائیاں کرنے والے فوجی گروپ کے سربراہ ہیں تاہم اسرائيلی فوج نے اپنے کسی سینیئر کمانڈر کے پکڑے جانے کی تردید کردی ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے حماس کے حملے سے متعلق سُن گُن لینے میں ناکام رہے، راکٹ حملوں سے اسرائیل میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے اسرائیل میں اپنی اس کارروائی کو”آپریشن الاقصیٰ فلڈ” کا نام دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کے حملوں میں سینیئر فوجی کرنل سمیت 500 سے زائد اسرائیلی ہلاک، 1590 افراد زخمی
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے حماس کے حملوں میں ہلاکتوں کے بعد جنگی حالات کا اعلان کر دیا جبکہ اسرائیلی وزیردفاع نے حماس کے خلاف "آپریشن آئرن سورڈ” کیلئے ریزرو فوجی بھی طلب کرلیے۔
اسرائیل نے حماس کے 17 ٹھکانوں اور چار مراکز کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں سے غزہ میں فلسطینی وزارت داخلہ کی عمارت تباہ ہوگئی، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 25 سے زائد مقامات پر اسرائیلی فوج اور حماس میں لڑائی جاری ہے۔
جنگ زدہ علاقوں میں اسرائیل نے لوگوں کو گھروں میں رہنے یا تہہ خانوں میں چھپنے کی ہدایت کی ہے۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












