فیشن برانڈ ‘زارا’ کا حالیہ مہم پر تنقید کے بعد وضاحتی بیان، تصاویر ڈیلیٹ کردیں

مقبول فیشن برانڈ زارا نے اپنی حالیہ پوسٹ پر ہونے والی سخت تنقید اور سوشل میڈیا پر ‘بائیکاٹ زارا’ کی مہم کے بعد وضاحتی بیان جاری کرکے تصویر ڈیلیٹ کردی۔
انسٹاگرام پر برانڈ کی جانب سے وضاحتی نوٹ شیئر کیا گیا جس میں لکھا تھا کہ ‘یہ مہم جولائی میں بنائی گئی اور یہ فوٹو شوٹ ستمبر میں کیا گیا تھا، یہ تصاویر ایک مجسمہ ساز کے اسٹوڈیو میں لی گئیں جہاں کئی نامکمل مجسمے تھے’
برانڈ نے لکھا کہ ‘اس مہم کا مقصد کپڑوں کی تیاری کے عمل کو آرٹ کے ماحول سے جوڑنا تھا’۔
View this post on Instagram
ہسپانوی برانڈ نے مزید کہا کہ ‘بدقسمتی سے نئی تشہیری مہم کی تصاویر سے چند لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے جس کی وجہ سے وہ تصاویر ہٹائی دی گئی ہیں، اس مہم کا مقصد وہ نہیں تھا جو بعض صارفین سمجھ بیٹھے’۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کا استحصال: بائیکاٹ زارامہم زور پکڑ گئی
I am beyond disgusted. Using genocide of the people in Palestine for your campaign? I will never, ever, buy anything from Zara, ever again. This is absolutely cruel, heartless and evil. Mocking more than 20 thousand deaths of Palestinian people for a freaking campaign?? Udah gila… pic.twitter.com/cefmJE0oLs
— Alexander Thian (@aMrazing) December 10, 2023
خیال رہے کہ کفن میں لپٹی لاش کے ساتھ غزہ کا استحصال کرتی ہسپانوی ملبوسات کے برانڈ ‘زارا’ کے فوٹو شوٹ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مشہور انٹرنیشنل فیشن برانڈ کو اس کے غیر حساس فوٹو شوٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
Catch all the انٹرٹینمنٹ News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












