کراچی انکم ٹیکس ادائیگی میں پہلے نمبر پر

کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنیوالے سیکٹر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ مالی سال کی پہلی ششماہی میں تنخواہ دار طبقے نے 158 ارب روپے ادا کیے جو سب سے امیر سبسڈی والے برآمد کنندگان ٹیکس شراکت سے 243 فیصد زیادہ ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا دسمبر ملک کے تنخواہ دار طبقے کی انکم ٹیکس ادائیگی میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق ٹیکس نیٹ میں اضافہ ناگزیر ہے، حکام کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ کو بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مالی سال 24۔2023 کی پہلی ششماہی میں 158 ارب روپے گزشتہ سال اسی عرصے میں 4،43 ارب انکم ٹیکس کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔
ایف بی آر اعداد و شمار کے مطابق ٹھیکیداروں، بینک ڈپازٹرز اور درامد کنندگان کے بعد تنخواہ دار طبقہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں چوتھے نمبر پر ہیں، گزشتہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے 2 لاکھ روپے ماہانہ سے اوپر کمانے والوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تھا، تنخواہ دار طبقے کے حصے 158 ارب روپے میں سے 66 ارب روپے سندھ سے وصول کیا گیا۔
پاکستان میں ہولناک مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ بوجھ جھیلتا نظر آتا ہے اور قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں آئی ایم ایف تکنیکی جائزہ مشن نے دورہ پاکستان کے دوران زور دیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کے سلیبس سات سے کم کر کے چار کردیے جائیں، اگر یہ تجویز مان لی جاتی ہے تو متوسط اور اعلیٰ نوکری کرنیوالوں کو مزید ٹیکس ادا کرنا پڑیگا۔
برامد کنندگان نے رواں مالی سال پہلی ششماہی میں 46 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جو تنخواہ دار طبقے سے 243 فیصد کم ہے۔
برآمد کنندگان نے پہلی ششماہی میں 15 ارب ڈالر یا 4 کھرب 3 ارب روپے کمائے لیکن 1 فیصد ادائیگی کے باعث صرف 46 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ اضافے میں نااہلی کے بعد ’ٹیکس سیل‘ لگا دی
ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوری روکنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال 23۔2022 میں تنخواہ دار طبقے نے 3۔264 ارب روپے ٹیکس ادا کیا تھا، یہ رقم ملک کے برامد کنندگان اور انتہائی کم ٹیکس لگنے والے خوردہ فروش تاجروں کی مشترکہ رقم سے 200 فیصد زیادہ تھی۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے شہروں کی انکم ٹیکس شراکت کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں 2018 گوشواروں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی ملک بھر سالانہ 41 اعشاریہ 39 فیصد ٹیکس ادا کر کے پہلے نمبر پر ہے، لاہور 19 اعشاریہ 56، اسلام آباد 19 اعشاریہ 9، راولپنڈی 3 اعشاریہ 43، فیصل آباد 1 اعشاریہ 71، ملتان 1 اعشاریہ 65 فیصد، پشاور 1 اعشاریہ 33 اور کوئٹہ اعشاریہ 99 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










