سعودی عرب میں پوشیدہ 4 ہزار سال پرانا قصبہ دریافت

سعودی عرب میں پوشیدہ 4 ہزار سال پرانا قصبہ دریافت فوٹو — اے ایف پی
ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ جدید سعودی عرب کے ایک نخلستان میں چھپے 4 ہزار سال پرانے قلعہ بند قصبے کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اس وقت زندگی آہستہ آہستہ خانہ بدوش سے شہری وجود میں تبدیل ہو رہی تھی۔
اس قصبے کی باقیات، جسے النطہ کہا جاتا ہے، جزیرہ نما عرب کے شمال مغرب میں صحرا سے گھرا ہوا ایک سبز اور زرخیز ٹکڑا خیبر کے نخلستان میں طویل عرصے سے چھپا ہوا تھا۔
فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ گیلوم چارلوکس کی سربراہی میں اس سال کے اوائل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس مقام پر 14.5 کلومیٹر لمبی ایک قدیم دیوار دریافت ہوئی۔
جرنل پی ایل او ایس ون میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے لیے فرانسیسی اور سعودی محققین کی ٹیم نے اس بات کے ثبوت فراہم کیے کہ یہ فصیل ایک رہائش گاہ کے ارد گرد منظم ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ 500 افراد پر مشتمل اس بڑے قصبے کو کانسی کے دور کے اوائل میں 2400 قبلِ مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا۔
تعمیر کے ایک ہزار سال بعد قصبے کو چھوڑ دیا گیا تھا جس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
جب النطہ کی تعمیر ہوئی تو بحیرہ روم کے کنارے موجودہ شام سے اردن تک لیونت کے علاقے میں شہر پھل پھول رہے تھے۔
اس وقت شمال مغربی عرب کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ایک بنجر صحرا تھا، جسے چرواہے خانہ بدوشوں نے عبور کیا۔
یہ 15 سال پہلے کی بات ہے، جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے خیبر کے شمال میں تیمہ کے نخلستان میں کانسی کے دور کی فصیل دریافت کی۔
چارلوکس نے کہا کہ سیاہ آتش فشاں چٹانوں جسے بیسالٹ کہا جاتا ہے، اس نے النطہ کی دیواروں کو اتنی اچھی طرح چھپا یا کہ اس جگہ کو غیر قانونی کھدائی سے محفوظ رکھا۔
لیکن اوپر سے اس جگہ کا مشاہدہ کرنے سے ممکنہ راستوں اور گھروں کی بنیادوں کا پتہ چلا اور معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کے ماہرین کو کہاں کھدائی کرنے کی ضرورت ہے۔
محغققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی بنیادیں دریافت کیں جو کم از کم ایک یا دو منزلہ گھروں کو آسانی سے سہارا دے سکیں۔
لیکن ان کے ابتدائی نتائج 2.6 ہیکٹر کے ایک شہر کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں ایک پہاڑی پر تقریبا 50 گھر واقع ہیں۔
نیکروپولس کے اندر مقبروں میں کلہاڑیوں اور خنجروں جیسے دھاتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایگیٹ جیسے پتھر بھی موجود تھے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے نسبتا مساوی معاشرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تقریبا پانچ میٹر اونچی فصیل کا سائز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ النطہ کسی قسم کی طاقتور مقامی اتھارٹی کی نشست تھی۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












