بدھ، 10-جون،2026
بدھ 1447/12/24هـ (10-06-2026م)

دارالعلوم حقانیہ میں دھماکا، جے یو آئی (س) سربراہ حامد الحق سمیت 4 افراد شہید

28 فروری, 2025 14:45

نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں  نماز جمعہ کے دوران دھماکا ہوا ہے۔

اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت چار افراد شہید ہوگئے۔

نوشہرہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد شہید ہوئے جب کہ زوردار دھماکے کے باعث درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، پولیس اور سکیورٹی اداروں نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں، دھماکا نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران ہوا اور اس کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق کے بیٹے ثانی حقانی نے کہا ہے کہ دھماکے کے وقت مسجد میں سینکڑوں افراد موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا نماز جمعہ کے دوران پہلی صف میں ہوا۔

وزیر اعظم شہبازشریف، صدر مملکت، وزیر داخلہ سمیت دیگر حکام  نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فرام کرنے کی ہدایت ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی نوشہرہ کی مسجد میں دھماکے کی مذمت کی اور دھماکے میں زخمی نمازیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

مریم نواز نے کہا کہ اکوڑہ خٹک مسجد میں نمازجمعہ کے بعد دھماکا کھلی دہشت گردی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتیں گے، پوری قوم متحد ہے۔

دھماکے کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو موصول

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ  میں دھماکے کی ابتدائی رپورٹ خیبر پختونخوا حکومت کو موصول ہوگئی جس میں کہا گیا ہے کہ دھماکا خودکش تھا جو مدرسے کے اندر نماز جمعہ کے بعد ہوا۔

رپورٹ کے مطابق دارالعلوم حقانیہ میں دھماکے میں 4افراد شہید ہوئے جن میں سبراہ جے یو آئی مولانا حامد الحق بھی شامل ہیں جب کہ دھماکے میں 20 افراد سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

دارالعلوم حقانیہ میں خود کُش حملہ فتنہ الخوارج کی مذموم کارروائی ہے، سکیورٹی ذرائع

اس ضمن میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ میں خود کُش حملہ فتنہ الخوارج اور ان کے سر پرستوں کی مذموم کارروائی ہے، حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ مولانا حامد الحق حقانی  نے گزشتہ ماہ رابطہ عالم اسلامی کے تخت ہونے والی کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اور خواتین کو تعلیم حاصل  کرنے سے روکنے کو بھی خلاف اسلام قرار دیا تھا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ خود کُش حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، اس بیانیے پر مولانا حامد الحق کو دھمکیاں بھی دی گئی تھی، نماز جمعہ کے دوران دھماکہ اس بات کی خمازی کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج، ان کے  پیروکاروں اور سہولتکاروں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔