اسرائیل نے بغیر کسی مقدمے کے 14 سالہ فلسطینی کو حراست میں لے لیا

صیہونی فوج نے بغیر کسی مقدمے کے 14 سالہ فلسطینی کو حراست میں لے لیا
اسرائیل نے ایک 14 سالہ فلسطینی کے خلاف انتظامی حراست کا حکم جاری کیا ہے جس کے بعد وہ ریکارڈ پر سب سے کم عمر انتظامی قیدی بن گیا ہے۔
موئن غسان فہد صلاحات کو اسرائیلی فورسز نے 19 فروری کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت فجار کے جنوب میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے صبح 3 بج کر 40 منٹ پر ان کے گھر پر دھاوا بول کر ان کے والد کو حراست میں لیا۔ جب معین بیدار ہوا تو اسے بھی پکڑ لیا گیا۔
صیہونی فوجیوں نے نوجوان کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی اور اس کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے باندھ دیے جب کہ معین کے والد کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ کم از کم 10 منٹ تک حرکت نہ کریں۔
اس کے بعد موئن غسان فہد صلاحات کو 2 مارچ کو چار ماہ کی انتظامی حراست کا حکم جاری کیا گیا تھا اور اب انہیں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
ڈی سی آئی پی کا کہنا ہے کہ وہ 2008 میں انتظامی قیدیوں کی نگرانی شروع کرنے کے بعد سے اس حکم نامے کے تحت آنے والا سب سے کم عمر فلسطینی بچہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










