جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

مقبوضہ جموں و کشمیر: بی جے پی اراکین اسمبلی کے 13 جولائی 1931 کے کشمیری شہدا کے خلاف توہین آمیز ریمارکس

06 مارچ, 2025 12:02

 کشمیری حریت قیادت نے 13 جولائی 1931 کے شہداء کے خلاف بی جے پی لیڈر کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت کی۔

کشمیری حریت رہنما نے کہا کہ ہر کوئی 1931 کے شہدا کا احترام کرتا ہے اور انہیں بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

کے ایم ایس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی ثقافتی اور مذہبی شناخت خطرے میں ہے، مقبوضہ کشمیر میں 90 فیصد سے زائد مسلم تاریخی مقامات بھارتی حکمت عملی کے تحت ختم یا نظر انداز کیے گئے جبکہ گزشتہ 3 دہائیوں میں 300 سے زائد اسلامی کتب خانے اور مدارس ضبط یا بند کر دیے گئے۔

کے ایم ایس کی جانب سے کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 30 سے زائد مسلم قبرستانوں کو حکومتی زمین قرار دے کر ضبط کیا گیا، مسلم ثقافت کو ختم کرنے کے لیے کشمیری مساجد پر گزشتہ چار برس میں 500 سے زائد پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ 70 فیصد کشمیری زبان کے اسکولوں کو بند یا ہندی میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ کشمیری میوزک اور شاعری کی تعلیم دینے والے اداروں کی تعداد 25 سالوں میں 90 سےکم ہو کر صرف 15 رہ گئی، کشمیری ہنر، قالین بافی اور شال سازی کی صنعت میں 50 فیصد کمی ہوئی، کشمیری لوک ثقافت کے لیے مخصوص 200 سال پرانا کلچرل ہال بھارتی فورسز کے زیر کنٹرول فوجی مرکز میں تبدیل ہوگیا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔