اسرائیلی بھی صیہونی فوج اور نیتن یاہو کی مخالفت میں سامنے آگئے

اسرائیلی بھی صیہونی فوج اور نیتن یاہو کی مخالفت میں سامنے آگئے
اسرائیلیوں کی بھاری اکثریت جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جانے کی حمایت کرتی ہے۔
اسرائیل کی اکثریت آبادی نے محصور غزہ پٹی کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسی کو بھی یکسر مسترد کردیا ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والے اسرائیل نیوز سروے میں تقریبا نصف جواب دہندگان نے محسوس کیا کہ اسرائیل کو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدوں کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کو مزید آگے بڑھانا چاہئے۔
صرف 9 فیصد نے حماس کی تحویل میں باقی اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑنے کی قیمت پر بھی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی۔
تقریبا 34 فیصد جواب دہندگان نے امریکا کی طرف سے پیش کردہ فریم ورک کی حمایت کی، جس میں جنگ بندی میں توسیع اور بقیہ نصف قیدیوں کو شروع میں رہا کرنا شامل تھا۔
اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کو روک دیا ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینی پٹی میں خوراک کی قلت کا خدشہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی ناکہ بندی کے تباہ کن نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے اور اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ غزہ میں خوراک کا ذخیرہ صرف دو ہفتوں تک چلے گا۔
قابض صیہونی حکومت کا کہنا ہے کہ حماس کو دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع پر رضامند ہونا ہوگا۔
قبل ازیں اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 12 نے خبر دی تھی کہ صیہونی فوج اگلے 10 دنوں میں غزہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو غزہ میں قید تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے ‘آخری انتباہ’ جاری کیا ہے۔
حماس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مزاحمتی گروپ توسیع کو قبول نہیں کرے گا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عمل کو اب دوسرے مرحلے میں آگے بڑھایا جانا چاہئے۔
حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بغیر کسی بھی اسرائیلی قیدی کو رہا نہیں کیا جائے گا، مزاحمتی تحریک نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو بیکار قرار دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










