جمعرات، 7-مئی،2026
جمعرات 1447/11/20هـ (07-05-2026م)

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا

11 نومبر, 2025 12:20

اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا، جس کا مقصد آئینی عدالتوں کے قیام اور ازخود نوٹس کے اختیار پر نظر ثانی کرنا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ آئین میں ترمیم مشاورت اور اکثریت کی حمایت سے کی جاتی ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ہے، آئینی عدالت کے قیام سے دیگر مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں گے اور عدالت میں صوبوں اور وفاق کی نمائندگی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ازخود نوٹس کے اختیار میں بھی نظر ثانی کی گئی ہے تاکہ سپریم کورٹ عام آدمی کے مقدمات پر زیادہ توجہ دے سکے، کیونکہ موجودہ طور پر تقریباً 60 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں جو ہائی کورٹ سنتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی عدالتوں میں مستقبل میں سینئر جج ہی چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات ہوں گے اور اگر کسی تعیناتی پر اتفاق نہ ہو تو معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا۔

وزیر قانون نے واضح کیا کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہوں گے، اور دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس میں سے سینئر جج سربراہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹسز کی وجہ سے ملک کے بعض معاملات متاثر ہوئے، اور اس اختیار کو محدود کرنے کے لیے ایک واضح طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کبھی تحلیل نہیں ہوتا اور ہر تین سال بعد نئے انتخابات ہوتے ہیں، تاہم کے پی میں سینیٹ انتخابات میں سیاسی بنیادوں پر 14 ماہ اور بعض دیگر معاملات میں 1 سال 2 ماہ تاخیر ہوئی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔