پنجاب اسمبلی میں طیارے کی خریداری پر ہنگامہ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ اپوزیشن ارکان کی گرفتاری اور طیارے کی خریداری پر شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
محکمہ اطلاعات و نشریات سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے لیے نئی عمارت خریدی جا رہی ہے جہاں تمام دفاتر کو یکجا کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی عمارت کو دور حاضر کے جدید آلات سے لیس کیا جائے گا تاکہ محکمہ کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور انتظامی امور میں ہم آہنگی پیدا ہو۔
اجلاس کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے طیارے کی خریداری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے استفسار کیا کہ اگر کسی سرکاری مہمان نے جنوبی پنجاب کا دورہ کرنا ہو تو کیا گیارہ ارب روپے مالیت کا طیارہ فراہم کیا جائے گا؟ اس سوال کے بعد ایوان میں شور شرابا ہوا اور اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹو سندھ حکومت کا طیارہ استعمال کر سکتے ہیں تو یہ پنجاب حکومت کا طیارہ ہے، جسے حکومتی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ ان کے بیان پر اپوزیشن کی جانب سے مزید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور میں بسنت کے دوران 17 افراد جاں بحق ہوئے، عدالت میں رپورٹ جمع
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ملک کو عالمی کپ جتوایا اور مفت کینسر اسپتال بنایا، ہر شہری کو صحت کارڈ فراہم کیا، مگر آج انہیں جیل میں صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق حاصل ہے جسے محدود کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے طیارہ کس مد میں خریدا گیا۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ ائیر پنجاب کے لیے ہے تو اس کا چارٹر کہاں ہے، اور اگر یہ وزیر اعلیٰ کے لیے خریدا گیا ہے تو لگژری طیارے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام میں تفریق پیدا کر رہی ہے اور جہاز کی خریداری پر تفصیلی جواب دیا جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ان کے نو ارکان اسمبلی کو گرفتار کر کے مقدمات درج کیے گئے اور سوال اٹھایا کہ اسپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری کیسے عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کی۔
چیف وہپ رانا ارشد نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا، تاہم اپوزیشن کو بھی اپنے ماضی کے کردار پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ایوان کے موجودہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بے قصور اٹھارہ ماہ قید رکھا گیا تھا تب کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ طیارہ استعمال نہیں کرتے۔
اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا جبکہ اسپیکر کی جانب سے کارروائی کو نظم و ضبط میں رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












